(۵۸۸۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابِقٍ الْخَوْلاَنِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ وَہْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِیَۃَ بْنَ صَالِحٍ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی الزَّاہِرِیَّۃِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: کُنْتُ جَالِسًا إِلَی جَانِبِہِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ یَتَخَطَّی رِقَابَ النَّاسِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((اجْلِسْ فَقَدْ آذَیْتَ وَآنَیْتَ))۔قَالَ أَبُو الزَّاہِرِیَّۃِ وَکُنَّا نَتَحَدَّثُ مَعَہُ حَتَّی یَخْرُجَ الإِمَامُ۔ [قوی۔ أبو داؤد ۱۱۱۸]
(٥٨٨٦) عبداللہ بن بسر (رض) فرماتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن ایک جانب بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا تو وہ لوگوں کی گردنوں کو پھلاند رہا تھا۔ اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ بیٹھ جاتو نے اذیت دی اور تو دور ہوا۔ ابو زاہریہ بیان کرتے ہیں کہ ہم امام کے نکلنے تک آپس میں بات چیت کرتے تھے ۔