(۵۹۵۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَیْمَانَ الْوَاسِطِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِینِیُّ حَدَّثَنَا حَرَمِیُّ بْنُ عُمَارَۃَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ
عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ حَدَّثَنِی عَمْرُو بْنُ سُلَیْمٍ الأَنْصَارِیُّ قَالَ: أَشْہَدُ عَلَی أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّہُ شَہِدَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ: ((الْغُسْلُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاجِبٌ وَأَنْ یَسْتَنَّ ، وَأَنْ یَمَسَّ مِنْ طِیبٍ إِنْ وَجَدَ))۔
قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَیْمٍ: وَأَشْہَدُ أَنَّ الْغُسْلَ وَاجِبٌ فَأَمَّا الاِسْتِنَانُ وَالطِّیبُ فَاللَّہُ أَعْلَمُ وَلَکِنْ ہَکَذَا سَمِعْتُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ وَرَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ أَبِی ہِلاَلٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی سَعِیدٍ عَنْ أَبِیہِ ۔ [صحیح۔ بخاری ۸۴۰]
(٥٩٥٤) (الف) عمرو بن سلیم فرماتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری (رض) کے پاس حاضر ہوا، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جمعہ کے دن غسل واجب ہے اور اس کو طریقہ بنایا جائے۔ اگر خوشبوپ اس ہو تو لگائے۔
(ب) عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ غسل واجب ہے، لیکن مسواک اور خوشبو۔ واللہ اعلم۔