(۶۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو کُرَیْبًا یُخْبِرُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بِتُّ عِنْدَ خَالَتِی مَیْمُونَۃَ ذَاتَ لَیْلَۃً ، فَلَمَّا کَانَ فِی بَعْضِ اللَّیْلِ قَامَ النَّبِیُّ -ﷺ- فَتَوَضَّأَ مِنْ شَنٍّ مُعَلَّقٍ وُضُوئً ا خَفِیفًا - یُخَفِّفُہُ عَمْرٌو وَیُقَلِّلُہُ جِدًّا - ثُمَّ قَامَ یُصَلِّی ، فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ نَحْوًا مِمَّا تَوَضَّأَ ثُمَّ قُمْتُ عَنْ یَسَارِہِ فَحَوَّلَنِی فَجَعَلَنِی عَنْ یَمِینِہِ ، ثُمَّ صَلَّی مَا شَائَ اللَّہُ ثُمَّ اضْطَجَعَ فَنَامَ حَتَّی نَفَخَ ، ثُمَّ جَائَہُ الْمُنَادِی فَآذَنَہُ بِالصَّلاَۃِ۔
وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً أُخْرَی : ثُمَّ قَامَ إِلَی الصَّلاَۃِ فَصَلَّی بِنَا وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
قَالَ سُفْیَانُ قُلْنَا لِعَمْرٍو : إِنَّ أُنَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنُہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ عُمَیْرٍ یَقُولُ: رُؤْیَا الأَنْبِیَائِ وَحْیٌ۔ وَقَرَأَ{إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ} [الصافات:۱۰۲]
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَابْنِ أَبِی عُمَرَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ إِلاَّ أَنَّہُمَا قَالاَ قَالَ سُفْیَانُ : وَہَذَا لِلنَّبِیِّ -ﷺ- خَاصَّۃً لأَنَّہُ بَلَغَنَا : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- تَنَامُ عَیْنَاہُ وَلاَ یَنَامُ قَلْبُہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ البخاری ۱۱۷]
(٦٠١) سیدنا عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ (رض) کے پاس ٹھہرا۔ رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لٹکی ہوئی مشک سے ہلکا سا وضو کیا ( عمرو اس کو ہلکا اور بہت تھوڑا بیان کرتے ہیں) پھر آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں بھی کھڑا ہوا۔ میں نے ویسے ہی وضو کیا جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو کیا، پھر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بائیں جانب کھڑا ہوا۔ آپ نے نماز پڑھی پھر آپ لیٹ کر سو گئے یہاں تک کہ آپ خراٹے لینے لگے، پھر اعلان کرنے والا آیا ۔ اس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کے متعلق بتایا۔
اور دوسری مرتبہ سفیان بیان کرتے ہیں کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور ہم کو نماز پڑھائی لیکن وضو نہیں کیا۔
سفیان کہتے ہیں کہ ہم نے عمرو کو کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔ عمرو کہتے ہیں : میں نے عبید بن عمیر سے سنا وہ کہتے تھے کہ انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں اور بطور دلیل یہ آیت پڑھی {إِنِّی أَرَی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ }[الصافات : ١٠٢]
(ب) بخاری اور مسلم میں ہے کہ سفیان کہتے ہیں : یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خاصہ ہے چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہمیں پہنچا ہے جو ہمارے لیے دلیل ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا۔