(۶۰۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا الْفِرْیَابِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ کُہَیْلٍ عَنْ کُرَیْبٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- نَامَ حَتَّی نَفَخَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔
مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ الثَّوْرِیِّ دُونَ الزِّیَادَۃِ الَّتِی تَفَرَّدَ بِہَا أَبُو خَالِدٍ الدَّالاَنِیُّ۔
(ت) وَکَذَلِکَ رَوَاہُ سَعِیدُ بْنُ جُبَیْرٍ وَغَیْرُہُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِی حَدِیثِ الْمَبِیتِ دُونَ تِلْکَ الزِّیَادَۃِ۔
(ق) وَنَوْمُہُ ہَذَا کَانَ مُضْطَجِعًا ، وَکَانَ -ﷺ- یَتْرُکُ الْوُضُوئَ مِنْہُ مَخْصُوصًا۔ وَالَّذِی یَدُلُّ عَلَیْہِ مَا۔ [صحیح]
(٦٠٠) سیدنا ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو گئے یہاں تک کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خراٹے لیے، پھر کھڑے ہوئے نماز ادا کی اور وضو نہیں کیا۔
(ب) اسی طرح ابن عباس (رض) کی رات گزارنے والی حدیث ہے جس میں یہ زیادتی نہیں ہے۔
(ج) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نیند لیٹ کر تھی، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو نہیں کیا، یہ آپ کا خاصہ ہے جس پر یہ حدیث دلالت کر رہی ہے۔