(۶۰۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا وَرْقَائُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أَبِی عَیَّاشٍ الزُّرَقِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِعُسْفَانَ فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ صَلاَۃُ الظُّہْرِ وَعَلَی خَیْلِ الْمُشْرِکِینَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ قَالَ: فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِأَصْحَابِہِ الظُّہْرَ قَالَ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ: إِنَّ لَہُمْ صَلاَۃً بَعْدَ ہَذِہِ أَحَبُّ إِلَیْہِمْ مِنْ أَبْنَائِہِمْ ، وَأَمْوَالِہِمْ ، وَأَنْفُسِہِمْ یَعْنُونَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ فَنَزَلَ جِبْرِیلُ عَلَیْہِ السَّلاَمَ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بَیْنَ الظُّہْرِ وَالْعَصْرِ فَأَخْبَرَہُ وَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {وَإِذَا کُنْتَ فِیہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلاَۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِنْہُمْ مَعَکَ وَلْیَأْخُذُوا أَسْلِحَتَہُمْ} [النسائ: ۱۰۲] الآیَۃَ إِلَی آخِرِہَا فَحَضَرَتِ الصَّلاَۃُ فَصَفَّ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَفَّیْنِ وَعَلَیْہِمُ السِّلاَحُ فَکَبَّرَ وَالْعَدُوُّ بَیْنَ یَدَیْ النَّبِیِّ -ﷺ- وَکَبَّرُوا جَمِیعًا وَرَکَعُوا جَمِیعًا ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالصَّفُّ الَّذِی یَلِیہِ ، وَالآخَرُونَ قِیَامٌ یَحْرُسُونَہُمْ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَامَ إِلَی الرَّکْعَۃِ الثَّانِیَۃِ وَسَجَدَ الآخَرُونَ ، ثُمَّ تَقَدَّمَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَصَافِّ ہَؤُلاَئِ وَتَأَخَّرَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَصَافِّ ہَؤُلاَئِ فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً أُخْرَی فَرَکَعُوا جَمِیعًا ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَالصَّفُّ الَّذِی یَلِیہِ والآخَرُونَ قِیَامٌ یَحْرُسُونَہُمْ فَلَمَّا فَرَغُوا سَجَدَ ہَؤُلاَئِ ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-
قَالَ أَبُو عَیَّاشٍ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- ہَذِہِ الصَّلاَۃَ مَرَّتَیْنِ مَرَّۃً بِعُسْفَانَ وَمَرَّۃً فِی أَرْضِ بَنِی سُلَیْمٍ۔
[صحیح لغیرہٖ۔ ابو داؤد ۱۲۳۶]
(٦٠١٧) (الف) ابو عیاش زرقی (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ عسفان نامی جگہ پر تھے تو ظہر کی نماز کا وقت ہوگیا اور خالد بن ولید مشرکین کے سالار تھے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ مشرکین کہنے لگے : اس کے بعد والی نماز انھیں اپنے بیٹوں ‘ اموال اور اپنی جانوں سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ وہ عصر کی نماز مراد لے رہے تھے تو ظہر وعصر کے درمیان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل آگئے۔ انھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبر دی تو یہ آیت نازل ہوئی : { وَإِذَا کُنْتَ فِیہِمْ فَأَقَمْتَ لَہُمُ الصَّلاَۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِنْہُمْ مَعَکَ وَلْیَأْخُذُوا أَسْلِحَتَہُمْ } [النساء : ١٠٢] جب آپ ان میں موجود ہوں تو ان کے لیے نماز قائم کریں اور ایک گروہ ان میں سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا ہو اور وہ اپنے اسلحہکو پکڑے ہوئے ہو۔
نماز کا وقت ہوا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو صفیں بنائیں اور صحابہ کے پاس اسلحہ موجود تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ اکبر کہا اور دشمن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تھا۔ ان سب نے اللہ اکبر کہا اور سب نے رکوع کیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور وہ صف جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملی ہوئی تھی سب نے سجدہ کیا اور دوسری صف کھڑی رہی، وہ پہرہ دے رہے تھے۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فارغ ہوئے اور دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو پھر دوسروں نے سجدہ کیا۔ پھر یہ دوسری صف والے پہلی صف کی جگہ اور پہلی صف والے دوسری صف والوں کی جگہ چلے گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو دوسری رکعت پڑھائی۔ ان سب نے رکوع کیا، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور وہ صف جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ملی ہوئی تھی نے سجدہ کیا اور دوسرے کھڑے پہرہ دیتے رہے۔ پھر جب وہ فارغ ہوئے تو ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلام پھیرا۔
(ب) ابو عیاش کہتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نماز دو مرتبہ پڑھائی ۔ ایک مرتبہ عسفان اور دوسری مرتبہ بنو سلیم کی زمین میں۔