(۶۰۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ أَخْبَرَنِی الأَشْعَثُ یَعْنِی ابْنَ سُلَیْمٍ عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ ہِلاَلٍ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ زَہْدَمٍ الْحَنْظَلِیِّ قَالَ: کُنَّا مَعَ حُذَیْفَۃَ بِطَبَرِسْتَانَ فَقَالَ سَعِیدُ بْنُ الْعَاصِ: أَیُّکُمْ شَہِدَ صَلاَۃَ الْخَوْفِ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ-؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا فَقَامَ صَفٌّ خَلْفَہُ وَصَفٌّ مُوَازِی الْعَدُوِّ فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً ، ثُمَّ ذَہَبَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَصَافِّہِمْ ، وَجَائَ أُولَئِکَ فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً ثُمَّ سَلَّمَ عَلَیْہِمْ۔
وَرَوَاہُ یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْیَانَ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: فَقَامَ حُذَیْفَۃُ وَصَفَّ النَّاسُ خَلْفَہُ صَفَّیْنِ صَفًّا خَلْفَہُ وَصَفًّا مُوَازِیَ الْعَدُوِّ وَصَلَّی بِالَّذِینَ خَلْفَہُ رَکْعَۃً، ثُمَّ انْصَرَفَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَکَانِ ہَؤُلاَئِ، وَجَائَ أُولَئِکَ فَصَلَّی بِہِمْ رَکْعَۃً وَلَمْ یَقْضُوا۔ [صحیح۔ ابو داؤد ۱۲۴۶]
(٦٠٤٦) ثعلبہ بن زہدم حنظلی فرماتے ہیں کہ ہم حذیفہ (رض) کے ساتھ طبرستان میں تھے تو سعید بن عاص نے فرمایا : تم میں سے نماز خوف میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کون تھا ؟ حذیفہ (رض) نے فرمایا : میں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے ایک صف کھڑی ہوتی اور ایک صف دشمن کے مقابلہ میں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ایک رکعت پڑھاتے۔ پھر وہ ان کی صف میں چلے جاتے۔ پھر وہ آتے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ایک رکعت پڑھا دیتے، پھر ان کے ساتھ سلام پھیرتے۔