(۶۰۴۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنِی سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ۔ کَذَا رَوَاہُ ثَعْلَبَۃُ بْنُ زَہْدَمٍ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ عَنْہُ۔وَقَدْ رُوِّینَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی إِسْحَاقَ عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِیِّ قَالَ: کُنْتُ مَعَ سَعِیدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ فَقَالَ لَہُمْ سَعِیدٌ: أَیُّکُمْ شَہِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- صَلاَۃَ الْخَوْفِ ؟ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ: أَنَا فَذَکَرَ صَلاَۃً مِثْلَ صَلاَۃِ النَّبِیِّ -ﷺ- بِعُسْفَانَ فَقَوْلُ الرَّاوِی فِی رِوَایَۃِ ثَعْلَبَۃَ صَفٌّ مُوَازِی الْعَدُوِّ یُرِیدُ بِہِ حَالَ السُّجُودِ وَقَوْلُہُ ثُمَّ انْصَرَفَ ہَؤُلاَئِ إِلَی مَکَانِ ہَؤُلاَئِ وَجَائَ أُولَئِکَ یُرِیدُ بِہِ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الرَّکْعَۃِ الأُولَی وَفِی ذَلِکَ قَضَائُ الرَّکْعَتَیْنِ مَعَ الإِمَامِ فَلاَ یَحْتَاجُونَ إِلَی قَضَائِ شَیْئٍ بَعْدَہُ وَذَلِکَ بَیِّنٌ فِی رِوَایَۃِ سُلَیْمِ بْنِ عَبْدٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ وَتِلْکَ الْقِصَّۃُ وَہَذِہِ وَاحِدَۃٌ فَوَجَبَ حَمْلُ إِحْدَی الرِّوَایَتَیْنِ عَلَی الأُخْرَی مَعَ مَا فِیہِ مِنْ الاِتِّفَاقِ لِسَائِرِ الرِّوَایَاتِ وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
(٦٠٤٧) سلیم بن عبدسلولی فرماتے ہیں کہ میں سعید بن عاص کے ساتھ طبرستان میں تھا تو سعید کہنے لگے : کون ہے جو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نمازِ خوف میں حاضر تھا ؟ حذیفہ (رض) نے فرمایا : میں حاضر تھا۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کا تذکرہ کیا جو عسفان میں پڑھی گئی ۔ راوی ثعلبہ کی روایت میں فرماتے ہیں کہ دشمن کے مقابل صف سجدہ کی حالت میں مراد لیتے ہیں اور ان کی یہ بات کہ وہ ان کی جگہ پر چلے گئے تو اس سے مراد یہ ہے کہ آگے والیصف پیچھے آگئی اور پچھلی صف آگے چلی گئی پہلی رکعت سے فارغ ہونے کے بعد۔ اس طرح دونوں رکعات امام کے ساتھ ہوئیں، دوسری رکعت کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔