(۶۰۷۰) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ سَمِعَ صَفْوَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ صَفْوَانَ یَقُولُ: اسْتَأْذَنَ سَعْدٌ عَلَی ابْنِ عَامِرٍ وَتَحْتَہُ مَرَافِقُ مِنْ حَرِیرٍ فَأَمَرَ بِہَا فَرُفِعَتْ ، فَدَخَلَ وَعَلَیْہِ مِطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ فَقَالَ لَہُ: اسْتَأْذَنْتَ عَلَیَّ وَتَحْتِی مَرَافِقُ مِنْ حَرِیرٍ فَأَمَرْتُ بِہَا فَرُفِعَتْ فَقَالَ لَہُ: نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ یَا ابْنَ عَامِرٍ إِنْ لَمْ تَکُنْ مِمَّنْ قَالَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ {أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا} [الأحقاف: ۲۰] وَاللَّہِ لَئِنْ أَضْطَجِعَ عَلَی جَمْرِ الْغَضَا أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَضْطَجِعَ عَلَیْہَا۔ [صحیح۔ حاکم ۲/۴۹۴]
(٦٠٧٠) عبداللہ بن صفوان فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) نے ابن عامر سے اجازت طلب کی تو ان کے نیچے ریشم کا بچھونا تھا۔ انھوں نے اٹھانے کا حکم دیا۔ پھر وہ داخل ہوئے تو اس پر ریشم کی چادر تھی۔ ابن عامر کہنے لگے : اے سعد ! آپ نے اجازت طلب کی تو میرے نیچے ریشم کا بچھونا تھا، میں نے اٹھا دیا۔ سعد فرمانے لگے : اے ابن عامر ! آپ اچھے آدمی ہیں اگر ایسا نہ ہو جو اللہ رب العزت نے فرمایا :{ أَذْہَبْتُمْ طَیِّبَاتِکُمْ فِی حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا }[الأحقاف : ٢٠] کہ تم نے اپنی نیکیوں کا صلہ دنیا میں حاصل کرلیا ۔ پھر فرمایا : اللہ کی قسم ! جھاؤ کی لکڑی کے کوئلے پر لیٹنا مجھے زیادہ محبوب ہے کہ اس پر لیٹوں۔