(۶۰۷۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِیرُوَیْہِ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ۔وَزَادَ فِیہِ فَقَالَ: یَا أَبَا إِسْحَاقَ إِنَّ ہَذَا الَّذِی عَلَیْکَ شَطْرُہُ حَرِیرٌ وَشَطْرُہُ خَزٌّ فَقَالَ: إِنَّمَا یَلِی جِلْدِیَ مِنْہُ الْخَزُّ۔
ورُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّہُ أُتِیَ بِدَابَّۃٍ عَلَیْہَا سَرْجُ دِیبَاجٍ فَأَبَی أَنْ یَرْکَبَہَا۔
[صحیح۔ ابن أبی شیبہ ۲۴۶۳۹]
(٦٠٧١) (الف) سفیان اسی جیسی حدیث ذکر کرتے ہیں ، اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ انھوں نے کہا : اے ابو اسحاق ! جو آپ کے اوپر ہے اس کا کچھ حصہ ریشم ہے اور کچھ دوسرا، یعنی اون کا کپڑا۔ فرمایا : جو میرے جسم پر لگ رہا ہے۔ وہ اون کا کپڑا ہے۔
(ب) علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک جانور لایا گیا ، اس کی زین ریشم کی تھی تو انھوں نے اس پر سوار ہونے سے انکار کردیا۔