(۶۱۲) وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوسُفَ السُّلَمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ عَنْ أَبِی رَوْقٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ عَنْ عَائِشَۃَ : أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- کَانَ یُقَبِّلُ بَعْدَ الْوُضُوئِ ثُمَّ لاَ یُعِیدُ الْوُضُوئَ ، وَقَالَتْ : ثُمَّ یُصَلِّی۔ فَہَذَا مُرْسَلٌ۔
(ج) إِبْرَاہِیمُ التَّیْمِیُّ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَۃَ قَالَہُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ وَغَیْرُہُ۔
وَأَبُو رَوْقٍ لَیْسَ بِقَوِیٍّ ضَعَّفَہُ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ وَغَیْرُہُ۔
(ت) وَرَوَاہُ أَبُو حَنِیفَۃَ عَنْ أَبِی رَوْقٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَفْصَۃَ۔ (ج) وَإِبْرَاہِیمُ لَمْ یَسْمَعْ مِنْ عَائِشَۃَ وَلاَ مِنْ حَفْصَۃَ قَالَہُ الدَّارَقُطْنِیُّ وَغَیْرُہُ۔
وَقَدْ رَوَیْنَا سَائِرَ مَا رُوِیَ فِی ہَذَا الْبَابِ وَبَیَّنَّا ضَعْفَہَا فِی الْخِلاَفِیَّاتِ۔
(ق) وَالْحَدِیثُ الصَّحِیحُ عَنْ عَائِشَۃَ فِی قُبْلَۃِ الصَّائِمِ فَحَمَلَہُ الضُّعَفَائُ مِنَ الرُّوَاۃِ عَلَی تَرْکِ الْوُضُوئِ مِنْہَا وَلَوْ صَحَّ إِسْنَادُہُ لَقُلْنَا بِہِ إِنْ شَائَ اللَّہُ تَعَالَی۔ [حسن لغیرہٖ۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۴۱]
(٦١٢) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کے بعد بوسہ لے لیا کرتے تھے۔ پھر دوبارہ وضو نہیں کرتے تھے اور سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : پھر نماز پڑھتے تھے (یہ روایت مرسل ہے) ۔
(ب) یحییٰ بن معین نے ابو روق کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(ج) امام دارقطنی (رح) فرماتے ہیں کہ ابراہیم کا سیدہ عائشہ (رض) اور حفصہ (رض) سے سماع ثابت نہیں ہے۔
(د) سیدہ عائشہ (رض) سے روزہ کی حالت میں بوسہ لینے والی روایت صحیح ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو ترک وضو پر محمول کیا ہے۔