(۶۱۳۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا قَبِیصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِیِّ قَالَ: کَانُوا فِی التَّکْبِیرِ فِی الْفِطْرِ أَشَدَّ مِنْہُمْ فِی الأَضْحَی۔وَرَوَی الشَّافِعِیُّ بِإِسْنَادِہِ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ التَّابِعِینَ أَنَّہُمْ کَانُوا یُکَبِّرُونَ لَیْلَۃَ الْفِطْرِ فِی الْمَسْجِدِ یَجْہَرُونَ بِہِ۔وَعَنْ جَمَاعَۃٍ مِنْہُمْ جَہْرُہُمْ بِہِ عِنْدَ الْغُدُوِّ إِلَی الْمُصَلَّی۔
[صحیح۔ الحاکم ۱/۴۳۸]
(٦١٣٢) (الف) ابو عبد الرحمن سلمی فرماتے ہیں کہ وہ عید الفطر میں عید الا اضحی کی بہ نسبت زیادہ تکبیریں کہتے ۔
(ب) تابعین کی ایک جماعت سے امام شافعینقل فرماتے ہیں کہ وہ مسجد میں عید الفطر کی رات بلند آواز سے تکبیریں کہتے اور صبح سے عید گاہ جانے تک بلند آواز سے تکبیریں کہتے۔