(۶۱۳۳) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: خَرَجَ ابْنُ الزُّبَیْرِ یَوْمَ النَّحْرِ فَلَمْ یَرَہُمْ یُکَبِّرُونَ فَقَالَ: مَا لَہُمْ لاَ یُکَبِّرُونَ أَمَا وَاللَّہِ فَعَلُوا ذَلِکَ فَقَدْ رَأَیْتُنَا فِی الْعَسْکَرِ مَا یُرَی طَرَفَاہُ فَیُکَبِّرُ الرَّجُلُ فَیُکَبِّرُ الَّذِی یَلِیہِ حَتَّی یَرْتَجَّ الْعَسْکَرُ تَکْبِیرًا وَإِنَّ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ کَمَا بَیْنَ الأَرْضِ السُّفْلَی إِلَی السَّمَائِ الْعُلْیَا۔ [ضعیف]
(٦١٣٣) تمیم بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ابن زبیر عید الاضحی کو نکلے تو انھوں نے لوگوں کو دیکھا، وہ تکبیریں نہیں کہہ رہے تھے، فرمانے لگے : ان کو کیا ہے کہ تکبیریں نہیں کہتے۔ اللہ کی قسم ! صحابہ تو کہا کرتے تھے۔ ہم نے تو لشکروں کو دیکھا ہے کہ ایک طرف سے ایک آدمی تکبیر کہتا۔ پھر اس کے ساتھ والا یہاں تک کہ لشکر میں تکبیر کی گونج پیدا ہوجاتی۔ یقیناً تمہارے درمیان اور ان کے درمیان نیچے والی زمین اور اوپر والے آسمان کے فاصلے جتنا فرق ہے۔