(۶۱۳۵) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ: أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ حَدَّثَنِی سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حُلَّۃً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ فِی السُّوقِ فَأَخَذَہَا فَأَتَی بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ابْتَعْ ہَذِہِ فَتَجَمَّلْ بِہَا لِلْعِیدِ وَلِلْوَفْدِ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((إِنَّمَا ہَذِہِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہُ))۔وَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَائَ اللَّہُ أَنْ یَلْبَثَ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِجُبَّۃِ دِیبَاجٍ فَأَقْبَلَ بِہَا عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَتَّی أَتَی بِہَا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ قُلْتَ: إِنَّمَا ہَذِہِ لِبَاسُ مَنْ لاَ خَلاَقَ لَہُ۔ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَیَّ بِہَذِہِ الْجُبَّۃِ۔فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-: ((تَبِیعُہَا أَوْ تُصِیبُ بِہَا حَاجَتَکَ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۰۶]
(٦١٣٥) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے بازار میں ایک ریشم کا حلہ دیکھا، وہ اسے پکڑ کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کی رسول ! آپ اسے خریدلیں اور عید اور وفد کے لیے اس کے ذریعے زینت اختیار کیا کریں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ان کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ، پھر حضرت عمر (رض) جتنی دیر اللہ نے چاہا ٹھہرے رہے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی جانب ایک ریشم کا جبہ بھیجا تو حضرت عمر (رض) اس جبہ کو لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہنے لگے : آپ نے تو فرمایا تھا کہ یہ ان کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اس کو بیچ دے یا اس سے اپنی ضرورت پوری کر۔