(۶۱۳۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی مَرْیَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِی کَثِیرٍ أَخْبَرَنِی زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِی سَرْحٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَخْرُجُ یَوْمَ الْفِطْرِ وَیَوْمَ الأَضْحَی إِلَی الْمُصَلَّی۔فَأَوَّلُ شَیْئٍ یَبْدَأُ بِہِ الصَّلاَۃُ ، ثُمَّ یَنْصَرِفُ فَیَقُومُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوسٌ عَلَی صُفُوفِہِمْ فَیَعِظُہُمْ وَیُوصِیہِمْ وَیَأْمُرُہُمْ۔ فَإِنْ کَانَ یُرِیدُ أَنْ یَقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَہُ وَیَأْمُرَ بِشَیْئٍ أَمَرَ بِہِ ، ثُمَّ یَنْصَرِفُ۔
قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَلَمْ یَزَلِ النَّاسُ عَلَی ذَلِکَ حَتَّی خَرَجْتُ مَعَ مَرْوَانَ بْنِ الْحَکَمِ وَہُوَ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فِی أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ فَلَّمَا أَتَیْنَا الْمُصَلَّی إِذَا مِنْبَرٌ مِنْ لَبِنٍ قَدْ بَنَاہُ کَثِیرُ بْنُ الصَّلْتِ ، وَإِذَا مَرْوَانُ یُرِیدُ أَنْ یَرْتَقِیَہُ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ فَجَبَذْتُ بِیَدِہِ فَجَبَذَنِی وَارْتَقَی فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَخَطَبَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ فَقُلْتُ لَہُ: غَیَّرْتُمْ وَاللَّہِ فَقَالَ: یَا أَبَا سَعِیدٍ إِنَّہُ قَدْ ذَہَبَ مَا تَعْلَمُہُ فَقُلْتُ: مَا أَعْلَمُ وَاللَّہِ خَیْرٌ مِمَّا لاَ أَعْلَمُ قَالَ: إِنَّ النَّاسَ لَمْ یَکُونُوا یَجْلِسُونَ لَنَا بَعْدَ الصَّلاَۃِ فَجَعَلْنَاہَا قَبْلَ الصَّلاَۃِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنِ ابْنِ أَبِی مَرْیَمَ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۱۳]
(٦١٣٤) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید گاہ کی طرف جاتے تو سب سے پہلے نماز سے ابتدا کرتے۔ پھر پھرتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور لوگ صفوں میں بیٹھے ہوتے ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو وعظ و نصیحت فرماتے اور حکم دیتے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا لشکر ترتیب دینے کا ارادہ ہوتا تو لشکر ترتیب دیتے یا کسی چیز کا حکم دیتے پھر چلے جاتے۔ ابو سعید (رض) کہتے ہیں کہ لوگ اسی طریقہ پر رہے یہاں تک کہ میں مروان کے ساتھ عید الاضحی یا عید الفطر میں نکلا ۔ جب ہم عید گاہ پہنچے تو وہاں اینٹوں کا بنا ہوا منبر تھا ، جس کو کثیر بن صلت نے بنایا تھا۔ مروان نے اس پر چڑھنا چاہا۔ جب مروان نے نماز سے پہلے اس پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو میں نے اس کو ہاتھ سے کھینچا اور لوگ جمع ہوگئے تو اس نے نماز سے پہلے خطبہ دیا تو میں نے کہا کہ تم نے طریقے کو تبدیل کردیا ہے۔ مروان کہنے لگے : اے ابو سعید ! وہ طریقہ ختم ہوچکا جس کو آپ جانتے ہیں۔ میں نے کہا : جس کو میں جانتا ہوں اللہ کی قسم ! وہ بہتر ہے اس سے جس کو اب میں نہیں جانتا۔ مروان کہنے لگا کہ لوگ نماز کے بعد بیٹھتے نہیں اس لیے خطبہ ہم نے نماز سے پہلے شروع کردیا۔