(۶۱۹۷) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَدِیِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَرَجَ یَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ لَمْ یُصَلِّ قَبْلَہَا وَلاَ بَعْدَہَا ، ثُمَّ أَتَی النِّسَائَ وَمَعَہُ بِلاَلٌ فَأَمَرَہُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَجَعَلَتِ الْمَرْأَۃُ تُلْقِی خُرْصَہَا وَسِخَابَہَا لَفْظُہُمَا سَوَاء ٌ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْوَلِیدِ وَأَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُہٍ عَنْ شُعْبَۃَ وَقَالَ بَعْضُہُمْ فِی الْحَدِیثِ: یَوْمَ أَضْحًی أَوْ فِطْرٍ۔
(٦١٩٧) (الف) ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کی نماز دو رکعت پڑھتے تھے ۔ اس سے پہلے اور بعد میں نماز نہ پڑھتے تھے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے پاس آئے اور بلال (رض) ساتھ تھے۔ ان کو صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اتار کر ڈال رہی تھیں۔
(ب) بعض نے حدیث میں کہا کہ عید الاضحی اور عید الفطر کے دن۔