hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6198

.

سنن البيهقي

6198
Sunan Al Bayhaqi
(۶۱۹۸) حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ: عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یُوسُفَ الأَصْبَہَانِیُّ إِمْلاَئً وَقِرَائَ ۃً أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ الأَعْرَابِیِّ حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ یُوسُفَ الأَزْرَقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ: شَہِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ عِیدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلاَۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلاَلٍ فَأَمَرَ النَّاسَ بِتَقْوَی اللَّہِ وَحَثَّہُمْ عَلَی طَاعَتِہِ وَوَعَظَہُمْ وَذَکَّرَہُمْ ، ثُمَّ مَضَی مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلاَلٍ حَتَّی أَتَی النِّسَائَ فَأَمَرَہُنَّ بِتَقْوَی اللَّہِ وَحَثَّہُنَّ عَلَی طَاعَتِہِ وَوَعَظَہُنَّ وَذَکَّرَہُنَّ وَقَالَ: تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَہَنَّمَ ۔قَالَ: فَقَامَتِ امْرَأَۃٌ مِنْہُنَّ مِنْ سَفِلَۃِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ فَقَالَتْ: وَلِمَ ذَاکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: لأَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ ۔فَجَعَلْنَ یَنْزِعْنَ مِنْ قُرُطِہِنَّ وَقَلاَئِدِہِنَّ وَخَوَاتِمِہِنَّ فَیَقْذِفْنَہُ فِی ثَوْبِ بِلاَلٍ یَتَصَدَّقْنَ بِہِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ۔ [صحیح۔ مسلم ۸۸۵]
(٦١٩٨) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں عید کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے نماز بغیر اذان و اقامت کے پڑھائی، بعد میں خطبہ دیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلال پر ٹیک لگائی اور لوگوں کو تقوی و اطاعت کا حکم دیا اور انھیں وعظ و نصیحت فرمائی۔ پھر آپ نے بلال (رض) پر ٹیک لگائی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے پاس آئے۔ ان کو تقوی کا حکم فرمایا، اطاعت پر ابھارا اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا : تم صدقہ کرو۔ تم میں سے اکثر جہنم کا ایندھن ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ایک ادنیٰ درجے کی عورت سیاہ رخساروں والی کھڑی ہوئی، کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لعنت زیادہ کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری کرتی ہو تو عورتیں اپنے ہار، بالیاں اور انگوٹھیاں اتار کر بلال (رض) کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔