(۶۲۰۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَیْسٍ الدَّبَّاغُ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- کَانَ یَخْرُجُ یَوْمَ الأَضْحَی وَیَوْمَ الْفِطْرِ فَیَبْدَأُ بِالصَّلاَۃِ فَإِذَا صَلَّی صَلاَتَہُ وَسَلَّمَ قَامَ فَأَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَہُمْ جُلُوسٌ فِی مُصَلاَّہُمْ فَإِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ بِبَعْثٍ ذَکَرَہُ لِلنَّاسِ أَوْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ بِغَیْرِ ذَلِکَ أَمَرَہُمْ بِہَا ، وَکَانَ یَقُولُ: تَصَدَّقُوا ۔وَکَانَ أَکْثَرُ مَنْ یَتَصَدَّقُ النِّسَائَ ثُمَّ یَنْصَرِفُ۔فَلَمْ یَزَلْ کَذَلِکَ حَتَّی کَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَرْوَانَ حَتَّی أَتَیْنَا الْمُصَلَّی فَإِذَا کَثِیرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنَی مِنْبَرًا مِنْ طِینٍ وَلَبِنٍ وَإِذَا مَرْوَانُ یُنَازِعُنِی یَدَہُ کَأَنَّہُ یَجُرُّنِی نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَأَنَا أَجُرُّہُ نَحْوَ الْمُصَلَّی ، فَلَّمَا رَأَیْتُ ذَلِکَ مِنْہُ قُلْتُ: إِنَّ الاِبْتِدَائَ بِالصَّلاَۃِ؟ فَقَالَ: لاَ یَا أَبَا سَعِیدٍ قَدْ تُرِکَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ: کَلاَّ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لاَ تَأْتُونَ بِخَیْرٍ مِمَّا أَعْلَمُ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْصَرَفَ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ وأَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِیَاضٍ۔
[صحیح۔ بخاری ۹۱۳]
(٦٢٠٣) ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب عید الفطر اور عید الاضحی کے لیے نکلتے تو خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کھڑے ہوتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور لوگ اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوتے تھے۔ اگر لشکر کی ضرورت ہوتی تو اس کا تذکرہ لوگوں سے فرماتے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی ضرورت ہوتی تو اس کا حکم دیتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے : تم صدقہ کرو اور زیادہ صدقہ عورتیں کرتیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چلے جاتے۔ یہ معاملہ ایسا ہی رہا کہ مروان بن حکم کا دور آیا۔ میں مروان بن حکم کے ساتھ نکلا، ہم عید گاہ آئے۔ وہاں کثیر بن صلت نے مٹی اور اینٹوں کا منبر بنایا ہوا تھا اور مروان اپنا ہاتھ چھڑوا رہے تھے گویا کہ وہ مجھے منبر کی طرف لے جا رہے ہوں اور میں اسے نماز کی طرف لے جا رہا تھا۔ جب میں نے دیکھاتو کہہ دیا کہ ابتدا نماز سے ہے۔ مروان کہنے لگا : اے ابو سعید ! وہ طریقہ چھوڑ دیا گیا، جو آپ جانتے ہیں۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں اللہ کی قسم ! تم بھلائی کو نہیں پاسکتے جب تک وہ طریقہ اختیار نہ کرو جس کو میں جانتا ہوں۔