(۶۲۰۷) وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ فَذَکَرَہُ بِمِثْلَ إِسْنَادِہِ۔
وَزَادَ قُلْتُ لِعَطَائٍ: زَکَاۃُ یَوْمِ الْفِطْرِ قَالَ: لاَ وَلَکِنَّہُ صَدَقَۃٌ یَتَصَدَّقْنَ بِہَا حِینَئِذٍ تُلْقِی الْمَرْأَۃُ فَتَخَہَا وَیُلْقِینَ وَیُلْقِینَ۔قُلْتُ لِعَطَائٍ: أَتَرَی حَقًّا عَلَی الإِمَامِ الآنَ أَنْ یَأْتِیَ النِّسَائَ حِینَ یَفْرُغُ فَیُذَکِّرَہُنَّ؟ قَالَ: إِی لَعَمْرِی إِنَّ ذَلِکَ لَحَقٌّ عَلَیْہِمْ وَمَا لَہُمْ لاَ یَفْعَلُونَ ذَلِکَ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَغَیْرِہِ بِہَذِہِ الزِّیَادَۃِ۔
قَوْلُ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجَابِرٍ فِی ہَذَا الْحَدِیثِ فَلَمَّا فَرَغَ نَزَلَ فَأَتَی النِّسَائَ یَدُلُّ عَلَی أَنَّہُ کَانَ عَلَی مُرْتَفَعٍ فَنَزَلَ۔
وَرَوَاہُ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرٍ فَقَالَ فِی ابْتِدَائِہِ: ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلاَلٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَی اللَّہِ ، ثُمَّ ذَکَرَ مُضِیَّہُ إِلَی النِّسَائِ وَلَمْ یَذْکُرْ لَفْظَ النُّزُولِ۔ وَلَکِنْ فِی حَدِیثِ أَبِی بَکْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- خَطَبَہُمْ بِمِنًی یَوْمَ النَّحْرِ عَلَی رَاحِلَتِہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۹۱۸]
(٦٢٠٧) (الف) عبد الرزاق نے اسی مثل بیان کیا ہے، لیکن فرماتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ وہ صدقہ فطر تھا ؟ فرمایا : نہیں بلکہ عورتیں اپنی جانب سے صدقہ کر رہی تھیں۔ بس وہ ڈالے جا رہی تھیں۔ میں نے عطاء سے کہا : کیا اب بھی امام پر لازم ہے کہ وہ عورتوں کے پاس آئے، ان کو وعظ کرے جب خطبہ سے فارغ ہوجائے ؟ فرمایا : میری عمر کی قسم ! یہ ان پر حق تو ہے لیکن نہ جانے وہ اس کو کرتے نہیں ہیں۔
(ب) جابر (رض) فرماتے ہیں : یہ ابتدا میں تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلال پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوجاتے اور اللہ سے تقویٰکا حکم فرماتے۔ پھر انھوں نے عورتوں کی طرف جانے کا تذکرہ کیا ۔ منبر سے اترنے کا تذکرہ نہیں کیا۔ ابوبکرہ کی حدیث میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منیٰ میں خطبہ ارشاد فرمایا، لیکن سواری سے نیچے نہیں اترے۔