(۶۲۰۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ أَخْبَرَنِی عَطَاء ٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ سَمِعْتُہُ یَقُولُ: إِنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَامَ یَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّی فَبَدَأ بِالصَّلاَۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ ، فَلَمَّا فَرَغَ نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- نَزَلَ فَأَتَی النِّسَائَ فَذَکَّرَہُنَّ وَہُوَ یَتَوَکَّأُ عَلَی یَدِ بِلاَلٍ وَبِلاَلٌ بَاسِطٌ ثَوْبَہُ یُلْقِینَ فِیہِ النِّسَائُ الصَّدَقَۃَ۔ [صحیح۔ تقدم ۶۱۸۹]
(٦٢٠٦) عطاء جابر بن عبداللہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عید الفطر کے دن نماز پڑھی۔ پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ سے فارغ ہوئے تو عورتوں کے پاس آئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو وعظ و نصیحت کی۔ اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلال کے ہاتھ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے اور بلال اپنا کپڑا پھیلائے ہوئے تھے اور عورتیں اس میں صدقہ ڈال رہی تھیں۔