(۶۲۱۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُعَاوِیَۃُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ أَبِی جَنَابٍ الْکَلْبِیِّ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: کُنَّا جُلُوسًا فِی الْمُصَلَّی یَوْمَ أَضْحًی فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَسَلَّمَ عَلَی النَّاسِ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَنْسَکِ یَوْمِکُمْ ہَذَا الصَّلاَۃُ ۔قَالَ: فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ النَّاسَ بِوَجْہِہِ وَأُعْطِیَ قَوْسًا أَوْ عَصًا فَاتَّکَأَ عَلَیْہَا فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ۔ [صحیح لغیرہٖ۔ احمد ۴/۲۸۲]
(٦٢١٩) براء بن عازب (رض) فرماتے ہیں کہ ہم عید الاضحی کے دن عید گاہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور لوگوں کو سلام کیا، پھر فرمایا کہ تمہارے آج کے دن کا سب سے پہلا کام نماز ہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آگے بڑھ کر دو رکعت نماز پڑھائی، پھر سلام پھیرا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لاٹھی یا کمان پکڑائی گئی۔ آپ نے اس پر ٹیک لگائی اور اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔