hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6220

.

سنن البيهقي

6220
Sunan Al Bayhaqi
(۶۲۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ: عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِیِّ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِیدِ الْفَحَّامُ حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ: أَنَّہُ شَہِدَ الصَّلاَۃَ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی یَوْمِ عِیدٍ۔فَبَدَأَ بِالصَّلاَۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِلاَ أَذَانٍ وَلاَ إِقَامَۃٍ ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلاَلٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ، وَوَعَظَہُمْ ، وَذَکَّرَہُمْ وَمَضَی مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلاَلٍ فَأَتَی النِّسَائَ فَوَعَظَہُنَّ ، وَذَکَّرَہُنَّ وَقَالَ: ((تَصَدَّقْنَ فَإِنَّ أَکْثَرَکُنَّ حَطَبُ جَہَنَّمَ))۔فَقَامَتِ امْرَأَۃٌ مِنْ سَفِلَۃِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ فَقَالَتْ لِمَ یَا رَسُولَ اللَّہِ؟ قَالَ: ((إِنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاۃَ ، وَتَکْفُرْنَ الْعَشِیرَ))۔فَجَعَلْنَ یَتَصَدَّقْنَ مِنْ خَوَاتِیمِہِنَّ وَقَلاَئِدِہِنَّ وَأَقْلِبَتِہِنَّ یُعْطِینَہُ بِلاَلاً یَتَصَدَّقْنَ بِہِ۔ [صحیح۔ تقدم ۶۱۹۸]
(٦٢٢٠) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ وہ عید کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حاضر تھے ۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ سے پہلے نماز بغیر اذان اور اقامت کے پڑھائی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلال (رض) پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا، اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور ان کو وعظ و نصیحت کی ۔ اسی طرح بلال (رض) پر ٹیک لگائے ہوئے بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے پاس آئے اور ان کو وعظ و نصیحت کی اور فرمایا : تم صدقہ کیا کرو؛ کیونکہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے تو ایک ادنیٰ درجہ کی عورت سیاہ رخساروں والی کھڑی ہوئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول ! کیوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم بہت زیادہ شکوہ کرتی ہو اور خاوندوں کی ناشکری۔ عورتیں اپنی انگوٹھیاں ‘ ہار ‘ اور بالیاں اتارناشروع ہوئیں اور حضرت بلال (رض) کو صدقہ کے طور پردے رہی تھیں۔