(۶۲۲۱) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْوَلِیدِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِاللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ فَذَکَرَہُ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاہُ۔إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ: ثُمَّ قَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَی بِلاَلٍ فَأَمَرَ بِتَقْوَی اللَّہِ ، وَحَثَّ عَلَی طَاعَتِہِ ، وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَہُمْ ثُمَّ مَضَی حَتَّی أَتَی النِّسَائَ وَقَالَ فِی آخِرِہِ: فَجَعَلْنَ یَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِیِّہِنَّ یُلْقِینَ فِی ثَوْبِ بِلاَلٍ مِنْ أَقْرَاطِہِنَّ وَخَوَاتِیمِہِنَّ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ نُمَیْرٍ۔ [صحیح۔ تقدم ۶۱۹۸]
(٦٢٢١) عبد الملک بن أبی سلیمان اسی جیسی حدیث بیان کرتے ہیں۔ مگر اس میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلال پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے تقویٰ کا حکم دیا ‘ اطاعت پر ابھارا اور لوگوں کو وعظ و نصیحت کی۔ پھر عورتوں کے پاس آئے۔ اس حدیث کے آخر میں ہے کہ عورتیں اپنے زیور ‘ بالیاں اور انگوٹھیاں بلال (رض) کے کپڑے میں ڈال رہی تھیں۔