(۶۲۴۰) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی بِنَیْسَابُورَ وَأَبُو عَلِیٍّ: الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بِبَغْدَادَ قَالَ أَبُو زَکَرِیَّا: أَخْبَرَنَا حَمْزَۃُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَقَالَ أَبُو عَلِیٍّ: أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: حَمْزَۃُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ یَعْنِی ابْنَ مُحَمَّدٍ الدُّورِیَّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ بَکْرٍ السَّہْمِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ حَفْصَۃَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ قَالَتْ: أَمَرَنَا بِأَبِی وَأُمِّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ نُخْرِجَہُنَّ یَوْمَ الْفِطْرِ ، وَیَوْمَ النَّحْرِ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ وَالْحُیَّضَ ، فَأَمَّا الْحُیَّضُ فَیَعْتَزِلْنَ الْمُصَلَّی وَیَشْہَدْنَ الْخَیْرَ وَدَعْوَۃَ الْمُسْلِمِینَ قَالَتْ: فَقِیلَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ: أَرَأَیْتَ إِحْدَاہُنَّ لاَ یَکُونُ لَہَا جِلْبَابٌ؟ فَقَالَ: ((لِتُلْبِسْہَا أُخْتُہَا مِنْ جِلْبَابِہَا))۔
أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ حَسَّانَ۔ [صحیح۔ انظر ما قبلہ]
(٦٢٤٠) حفصہ (رض) ام عطیہ سے نقل فرماتی ہیں کہ میرے ماں باپ فدا ہوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر، آپ نے ہمیں حکم دیا کہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن ہم نوجوان اور پردہ نشین عورتوں کو بھی کو نکالیں اور حیض والیوں کو بھی۔ لیکن حیض والیاں نماز سے الگ رہیں اور بھلائی اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہوں۔ کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو ؟ فرمایا : اس کی بہن اس کو چادر پہنا دے۔