(۶۲۴۱) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ یَعْنِی الثَّقَفِیَّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ حَفْصَۃَ قَالَتْ: کُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ یَخْرُجْنَ فِی الْعِیدَیْنِ فَقَدِمَتِ امْرَأَۃٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ بَنِی خَلَفٍ فَحَدَّثَتْ عَنْ أُخْتِہَا وَکَانَ زَوْجُ أُخْتِہَا غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- اثْنَتَیْ عَشَرَۃَ غَزْوَۃً قَالَتْ وَأُخْتِی مَعَہُ فِی سِتِّ غَزَوَاتٍ قَالَتْ: وَکُنَّا نُدَاوِی الْکَلْمَی ، وَنَقُومُ عَلَی الْمَرْضَی فَسَأَلَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-: ہَلْ عَلَی إِحْدَانَا بَأْسٌ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہَا جِلْبَابٌ أَنْ لاَ تَخْرُجَ؟ فَقَالَ: ((لِتُلْبِسْہَا صَاحِبَتُہَا مِنْ جِلْبَابِہَا فَتَشْہَدُ الْخَیْرَ وَدَعْوَۃَ الْمُؤْمِنِینَ))۔فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِیَّۃَ سَأَلْتُہَا: ہَلْ سَمِعْتِ مِنَ النَّبِیِّ -ﷺ-؟ قَالَتْ: نَعَمْ بِأَبَا وَکَانَتْ لاَ تَذْکُرُ النَّبِیَّ -ﷺ- إِلاَّ قَالَتْ:بِأَبَا سَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((لِتَخْرُجِ الْعَوَاتِقُ وَذَوَاتُ الْخُدُورِ ، وَالْحُیَّضُ فَیَشْہَدْنَ الْخَیْرَ وَدَعْوَۃَ الْمُؤْمِنِینَ ، وَیَعْتَزِلْنَ الْحُیَّضُ الْمُصَلَّی))۔فَقَالَتْ حَفْصَۃُ: فَقُلْتُ: الْحُیَّضُ؟ فَقَالَتْ: أَوَ لَیْسَتْ تَشْہَدُ عَرَفَۃَ وَتَشْہَدُ کَذَا وَتَشْہَدُ کَذَا۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلاَّمٍ عَنْ عَبْدِ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیِّ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۵۶۹]
(٦٢٤١) ایوب حفصہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم اپنی نوجوان عورتوں کو منع کرتے تھے کہ وہ عیدگاہ میں آئیں۔ ایک عورت آئی وہ قصر بن خلف کے پاس ٹھہری۔ وہ اپنی بہن سے نقل فرماتی ہیں کہ اس کے خاوند نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر بارہ غزوات کیے۔ فرماتی ہیں : میری بہن چھ غزوات میں ان کے ساتھ تھی ۔ فرماتی ہیں : ہم زخمیوں کی دوا کا بند و بست کرتی تھیں اور مریضوں کا خیال رکھتی تھیں۔ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کیا ہمارے اوپر کوئی حرج ہے اگر اس کے پاس چادر نہ ہو تو وہ باہر نہ نکلے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اپنی سہیلی کی چادر اوڑھ لے۔ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہو۔ جب ام عطیہ آئیں تو میں نے ان سے سوال کیا : کیا آپ نے یہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے ؟ فرماتی ہیں : ہاں اور وہ جب بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ فرماتیں تو بابا کے لفظ ضرورکہتیں، میں نے ان سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے کہ جوان اور پردہ نشین عورتیں اور حیض والیاں بھلائی اور دعا میں ضرور شامل ہوں۔ لیکن حیض والیاں نماز سے الگ رہیں۔ حفصہ فرماتی ہیں : میں نے کہا : حیض والیاں بھی ؟ تو انھوں نے فرمایا : کیا وہ عرفہ اور فلاں فلاں مقام پر حاضر نہیں ہوتیں۔