(۶۲۸۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَسِیدُ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ حَفْصٍ عَنْ سُفْیَانَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ عَنْ ذَکْوَانَ أَبِی صَالِحٍ قَالَ: اجْتَمَعَ عِیدَانِ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمُ جُمُعَۃٍ وَیَوْمُ عِیدٍ فَصَلَّی ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: قَدْ أَصَبْتُمْ ذِکْرًا وَخَیْرًا وَإِنَّا مُجَمِّعُونَ ، فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَجْلِسَ فَلْیَجْلِسْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یُجَمِّعَ فَلْیُجَمِّعْ۔
وَرُوِیَ عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عُیَیْنَۃَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ مَوْصُولاً مُقَیَّدًا بِأَہْلِ الْعَوَالِی وَفِی إِسْنَادِہِ ضَعْفٌ۔
وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُقَیَّدًا بِأَہْلِ الْعَالِیَۃِ إِلاَّ أَنَّہُ مُنْقَطِعٌ۔ [صحیح لغیرہٖ]
(٦٢٨٩) ذکوان بن صالح فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں دو عیدیں جمع ہوگئیں، یعنی جمعہ کا دن اور عید کا دن تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز عید پڑھائی۔ پھر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ تم نے ذکر اور بھلائی کو پا لیا، لیکن ہم جمعہ ادا کریں گے۔ جس کو پسند لگے کہ وہ بیٹھا رہے تو بیٹھ جائے اور جو دونوں کو جمع کرنا پسند کرے وہجمع کرلے۔