(۶۲۹۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو: مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ یَعْنِی ابْنَ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا حِبَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی أَبُو عُبَیْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْہَرَ: أَنَّہُ شَہِدَ الْعِیدَ یَوْمَ الأَضْحَی مَعَ عُمَرَ فَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَدْ نَہَاکُمْ عَنْ صِیَامِ ہَذَیْنِ الْعِیدَیْنِ۔أَمَّا أَحَدُہُمَا فَیَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِیَامِکُمْ ، وَأَمَّا الآخَرُ فَیَوْمٌ تَأْکُلُونَ فِیہِ مِنْ نُسُکِکُمْ۔قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ: ثُمَّ شَہِدْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ وَکَانَ ذَلِکَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّ ہَذَا یَوْمٌ قَدِ اجْتَمَعَ لَکُمْ فِیہِ عِیدَانِ۔فَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَنْتَظِرَ الْجُمُعَۃَ مِنْ أَہْلِ الْعَوَالِی فَلْیَنْتَظِرْ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَرْجِعَ فَلْیَرْجِعْ فَقَدْ أَذِنْتُ لَہُ۔
قَالَ أَبُو عُبَیْدٍ: ثُمَّ شَہِدْتُہُ مَعَ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَصَلَّی قَبْلَ الْخُطْبَۃِ ، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- نَہَاکُمْ أَنْ تَأْکُلُوا لُحُومَ نُسُکِکُمْ فَوْقَ ثَلاَثٍ۔
وَعَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ نَحْوَہُ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ حِبَّانَ بْنِ مُوسَی بِطُولِہِ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۲۵۱]
(٦٢٩٢) ابو عبید مولی ابن ازھر فرماتے ہیں کہ وہ عید الاضحی کے موقع پر حضرت عمر (رض) کے ساتھ حاضر ہوئے۔ انھوں نے نماز پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عیدین میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ ایک تو وہ دن ہے کہ تم اپنے روزوں کو افطار کرتے ہو ، یعنی عید الفطر مناتے ہو اور دوسرا وہ دن جس میں تم اپنی قربانیوں کے گوشت کھاتے ہو۔ ابو عبید فرماتے ہیں : پھر میں عثمان بن عفان (رض) کے ساتھ حاضر ہوا تو یہ عید بھی جمعہ کے دن تھی۔ انھوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو ! اس دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں تو عوالی والوں میں سے جو جمعہ کا انتظار کرنا چاہے وہ انتظار کرسکتا ہے اور جو واپس جانا چاہے جاسکتا ہے۔ میں اجازت دیتا ہوں۔
ابوعبید فرماتے ہیں : پھر میں حضرت علی (رض) کے ساتھ حاضر ہوا تو انھوں نے بھی نمازِ عید خطبہ سے پہلے پڑھائی، پھر خطبہدیا اور فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی قربانیوں کے گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھاؤ۔