(۶۲۹۱) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو بَکْرٍ: أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْہَرَ قَالَ: شَہِدْتُ الْعِیدَ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَجَائَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ فَقَالَ: إِنَّہُ قَدِ اجْتَمَعَ لَکُمْ فِی یَوْمِکُمْ ہَذَا عِیدَانِ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْ أَہْلِ الْعَالِیَۃِ أَنْ یَنْتَظِرَ الْجُمُعَۃَ فَلْیَنْتَظِرْہَا ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ یَرْجِعَ فَلْیَرْجِعْ فَقَدْ أَذِنْتُ لَہُ۔ [صحیح۔ أخرجہ الشافعی ۳۴۴]
(٦٢٩١) ابو عبید مولیٰ ابن ازہر فرماتے ہیں کہ میں عثمان بن عفان کے ساتھ عید میں حاضر ہوا۔ وہ آئے اور نماز پڑھائی، پھر خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے اس دن میں دو عیدیں جمع ہوجائیں تو اگر عوالئی مدینہ والے جمعہ کا انتظار کرنا چاہیں تو کرلیں اگر واپس جانا چاہیں تو چلے جائیں، میں ان اجازت دیتا ہوں۔