(۶۳۲) وَبِإِسْنَادِہِ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَنْ مَسَّ ذَکَرَہُ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ الْوُضُوئُ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی ذَلِکَ عَنْ عَائِشَۃَ وَأَبِی ہُرَیْرَۃَ ، وَرَوَی الشَّافِعِیُّ فِی کِتَابِ الْقَدِیمِ عَنْ مُسْلِمٍ وَسَعِیدٍ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بَیْنَا ہُوَ یَؤُمُّ النَّاسَ إِذْ زَلَّتْ یَدُہُ عَلَی ذَکَرِہِ ، فَأَشَارَ إِلَی النَّاسِ : أَنِ امْکُثُوا ، ثُمَّ خَرَجَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ رَجَعَ ، فَأَتَمَّ بِہِمْ مَا بَقِیَ مِنَ الصَّلاَۃِ۔[صحیح۔ أخرجہ مالک ۹۲]
(٦٣٢) (الف) عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں : جس نے اپنی شرمگاہ کو چھوا اس پر وضو واجب ہوگیا۔
(ب) ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب (رض) ایک دن لوگوں کو نماز کی امامت کر وا رہے تھے ۔ اس دوران انھوں نے ہاتھ سے شرمگاہ کو چھواتو لوگوں کو اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ٹھہرے رہیں، پھر وہ گئے وضو کیا پھر واپس لوٹے اور باقی نماز مکمل کی۔