(۶۳۱۲) وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ الْمُزَکِّی أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ قَالَ قُرِئَ عَلَی یَحْیَی بْنِ جَعْفَرٍ وَأَنَا أَسْمَعُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ یَعْلَی بْنِ عَطَائٍ عَنْ أَبِیہِ وَعَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِیہِ جَمِیعًا عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتَّی قِیلَ لاَ یَرْکَعُ فَرَکَعَ فَأَطَالَ الرُّکُوعَ حَتَّی قِیلَ: لاَ یَرْفَعُ فَرَفَعَ فَأَطَالَ حَتَّی قِیلَ: لاَ یَسْجُدُ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ حَتَّی قِیلَ: لاَ یَرْفَعُ ، ثُمَّ رَفَعَ فَجَلَسَ فَأَطَالَ الْجُلُوسَ حَتَّی قِیلَ: لاَ یَسْجُدُ ، ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ ، ثُمَّ رَفَعَ وَفَعَلَ فِی الأُخْرَی مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی انْجَلَتِ الشَّمْسُ۔
فَہَذَا الرَّاوِی حَفِظَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرٍو طُولَ السُّجُودِ وَلَمْ یَحْفَظْ رَکْعَتَیْنِ فِی رَکْعَۃٍ وَأَبُو سَلَمَۃَ حَفِظَ رَکْعَتَیْنِ فِی رَکْعَۃٍ وَحَفِظَ طُولَ السُّجُودِ عَنْ عَائِشَۃَ۔ [صحیح۔ ابن خزیمہ ۱۳۹۲]
(٦٣١٢) عبداللہ بن عمرو (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن لگ گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اتنا لمبا قیام کیا کہ لوگ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع نہیں کریں گے۔ آپ نے پھر اتنا لمبا رکوع کیا کہ لوگ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رکوع سے سر نہیں اٹھائے گے۔ جب رکوع سے سر اٹھالیا تو کہا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ نہیں فرمائیں گے۔ پھر جب سجدہ کیا تو اتنا لمبا کہ لوگ کہنے لگے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر اٹھایا اور بیٹھ گئے۔ زیادہ دیر بیٹھے رہے۔ کہا گیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سجدہ نہیں فرمائیں گے۔ پھر سجدہ کیا تو لمبا سجدہ کیا۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا۔
عطاء بن سائب وغیرہ نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے لمبے سجود کا تذکرہ کیا، لیکن ایک رکعت میں دو رکوع کا تذکرہ یاد نہیں رہا۔
ابو سلمہ (رض) کو ایک رکعت میں دو رکوع کا ذکر یادتھا، لیکن لمبے سجود کا تذکرہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرمایا۔