hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6314

.

سنن البيهقي

6314
Sunan Al Bayhaqi
(۶۳۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُودَاوُدَ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی یَوْمٍ شَدِیدِ الْحَرِّ فَصَلَّی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَأَطَالَ الْقِیَامَ حَتَّی جَعَلُوا یَخِرُّونَ قَالَ: ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَکَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ رَفَعَ فَأَطَالَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ قَامَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِکَ فَکَانَتْ أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَجَعَلَ یَتَقَدَّمُ وَیَتَأَخَّرُ فِی صَلاَتِہِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی أَصْحَابِہِ فَقَالَ: ((إِنَّہُ عُرِضَتْ عَلَیَّ الْجَنَّۃُ وَالنَّارُ فَقَرُبَتْ مِنِّی الْجَنَّۃُ حَتَّی لَوْ تَنَاوَلْتُ مِنْہَا قِطْفًا نِلْتُہُ أَوْ قَالَ قَصُرَتْ یَدِی عَنْہُ شَکَّ ہِشَامٌ وَعُرِضَتْ عَلَیَّ النَّارُ فَجَعَلْتُ أَتَأَخَّرُ رَہْبَۃً أَنْ تَغْشَاکُمْ وَرَأَیْتُ امْرَأَۃً حِمْیَرِیَّۃً سَوْدَائَ طَوِیلَۃً تُعَذَّبُ فِی ہِرَّۃٍ لَہَا رَبَطَتْہَا فَلَمْ تُطْعِمْہَا وَلَمْ تَسْقِہَا وَلَمْ تَدَعْہَا تَأْکُلُ مِنْ خَشَاشِ الأَرْضِ ، وَرَأَیْتُ فِیہَا أَبَا ثُمَامَۃَ عَمْرَو بْنَ مَالِکٍ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ۔وَإِنَّہُمْ کَانُوا یَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَنْکَسِفَانِ إِلاَّ لِمَوْتِ عَظِیمٍ ، وَإِنَّہُمَا آیَتَانِ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ یُرِیکُمُوہَا ، فَإِذَا انْکَسَفَا فَصَلُّوا حَتَّی یَنْجَلِیَ))۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ وَجْہَیْنِ عَنْ ہِشَامٍ الدَّسْتَوَائِیِّ۔ [صحیح۔ مسلم ۹۰۴]
(٦٣١٤) جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سخت گرمی کے دن سورج گرہن ہوگیا۔ نبی نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھائی تو لمبا قیام فرمایا : حتی کہ لوگ گرنے لگے۔ پھر آپ نے رکوع کیا اور لمبا کردیا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سر کو اٹھایا تو زیادہ دیر کھڑے رہے۔ پھر لمبا رکوع کردیا۔ پھر رکوع سے سر کو اٹھایا تو زیادہ دیر ٹھہرے رہے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو سجدے کیے۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور اس طرح کیا۔ یہ چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز میں تقدم وتاخر کرلیا کرتے تھے۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : میرے سامنے جنت اور جہنم کو پیش کیا گیا تو جنت میرے قریب کی گئی۔ اگر میں اس سے ایکگچھا پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتایا فرمایا : میرا ہاتھ اس سے قاصر رہ گیا۔ ہشام کو شک ہے اور جہنم میرے سامنے پیش کی گئی۔ میں ڈر کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہا تھا کہیں وہ تم کو ڈھانپ نہ لے۔ میں نے اس میں ایک سیاہ رنگ کی حمیری عورت دیکھی وہ ایک بلی کی وجہ سے عذاب دی جا رہی تھی۔ اس نے اس کو باندھ دیا تھا، نہ کھلایا نہ پلایا اور نہ ہی چھوڑا کہ وہ حشرات الارض ہی کھا لیتی اور میں نے دیکھا ابو ثمامہ عمرو بن مالک کو کہ وہ اپنی آنتیں جہنم میں گسیٹ رہاتھا اور لوگ کہا کرتے ہیں کہ سورج و چاند کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہی بےنور ہوتے حالانکہ یہ دونوں تو اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں وہ تم کو دکھائی دے رہی ہیں۔ جب ان کو گرہن لگ جائے تو نماز پڑھو یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائیں ۔