(۶۳۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ: عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ رَجُلٍ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَجَعَلَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَیُسَلِّمُ وَیُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَیُسَلِّمُ حَتَّی انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ: ((إِنَّ نَاسًا مِنَ الْجَاہِلِیَّۃِ کَانُوا یَقُولُونَ: إِذَا کَسَفَ وَاحِدٌ مِنْہُمَا إِنَّمَا یَنْکَسِفُ لِمَوْتِ عَظِیمٍ مِنْ عُظَمَائِ أَہْلِ الأَرْضِ ، وَإِنَّ ذَلِکَ لَیْسَ کَذَلِکَ ، وَلَکِنَّہُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّہِ فَإِذَا تَجَلَّی اللَّہُ لِشَیْئٍ مِنْ خَلْقِہِ خَشَعَ لَہُ فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَصَلُّوا))۔
وَرَوَاہُ الْحَارِثُ بْنُ عُمَیْرٍ الْبَصْرِیُّ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ فِیہِ: فَجَعَلَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَیَسْأَلُ عَنْہَا حَتَّی انْجَلَتْ۔
وَرَوَاہُ الْحَسَنُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ خَالِیًا عَنْ ہَذِہِ الأَلْفَاظِ الَّتِی تُوہِمُ خِلاَفًا وَخَالِیًا عَنْ لَفْظِ التَّجَلِّی۔
[ضعیف۔ احمد ۴/۳۶۷]
(٦٣٣٦) نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن لگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو رکعت نماز پڑھائی اور سلام پھیر دیا، پھر دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا۔ جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ جب سورج بےنور ہوتا ہے تو اہل زمین میں کسی بڑے کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے، لیکن یہ دونوں اللہ کی مخلوق میں سے ہیں جب اللہ اپنی مخلوق سے کسی کو روشن کرتا ہے تو وہ اس سے ڈرتی ہے اور جب تم اس طرح دیکھو تو نماز پڑھو۔