(۶۳۳۷) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنِی أَبِی عَنْ قَتَادَۃَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ مُسْتَعْجِلاً یَجُرُّ رِدَائَ ہُ حَتَّی أَتَی الْمَسْجِدَ وَقَدِ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّی حَتَّی انْجَلَتْ وَقَالَ: ((إِنَّ أَہْلَ الْجَاہِلِیَّۃِ یَقُولُونَ: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَنْخَسِفَانِ إِلاَّ لِمَوْتِ عَظِیمٍ مِنْ عُظَمَائِ الأَرْضِ وَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَکِنَّہُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَیُحْدِثُ اللَّہُ فِی خَلْقِہِ مَا یَشَائُ فَأَیُّہُمَا انْخَسَفَ فَصَلُّوا حَتَّی یَنْجَلِیَ أَوْ یُحْدِثُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ أَمْرًا))۔
ہَذَا أَشْبَہُ أَنْ یَکُونَ مَحْفُوظًا وَقَدْ قِیلَ عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ عَنْ قَبِیصَۃَ الْہِلاَلِیِّ۔ [ضعیف۔ نسائی ۱۴۹۰]
(٦٣٣٧) نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے جلدی مسجد کی طرف آتے اور سورج گرہن ہوچکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز پڑھی یہاں تک کہ سورج روشن ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاہلیت میں لوگ کہا کرتے تھے کہ سورج اور چاند زمین والوں میں سے کسی بڑے کی وجہ سی بےنور ہوتے ہیں حالانکہ سورج اور چاند کسی کی موت کی وجہ سے بےنور نہیں ہوتے کیونکہ یہ دونوں اللہ کی مخلوق ہیں اور اللہ اپنی مخلوق میں جو چاہے کرتا ہے تو ان میں سے جو بھی بےنور ہو تو تم نماز پڑھو۔ یہاں تک کہ یہ روشن ہوجائے یا پھر اللہ کوئی اور صورت نکال دیں۔