(۶۳۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنْ بُرَیْدٍ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ: کَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی زَمَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَامَ فَزِعًا یَخْشَی أَنْ تَکُونَ السَّاعَۃُ حَتَّی أَتَی الْمَسْجِدَ فَقَامَ یُصَلِّی بِأَطْوَلِ قِیَامٍ وَرُکُوعٍ وَسُجُودٍ مَا رَأَیْتُہُ یَفْعَلُہُ فِی صَلاَۃٍ قَطُّ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ہَذِہِ الآیَاتِ الَّتِی یُرْسِلُ اللَّہُ لاَ تَکُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلاَ لِحَیَاتِہِ ، وَلَکِنَّ اللَّہَ أَرْسَلَہَا یُخَوِّفُ بِہَا عِبَادَہَ فَإِذَا رَأَیْتُمْ مِنْہَا شَیْئًا فَافْزَعُوا إِلَی ذِکْرِ اللَّہِ وَدُعَائِہِ وَاسْتِغْفَارِہِ))۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ وَمُسْلِمٌ جَمِیعًا فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ۔ [صحیح۔ بخاری ۱۰۱۰]
(٦٣٦٣) ابو موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں سورج گرہن ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرا کر اٹھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ڈر رہے تھے کہ کہیں قیامت ہی قائم نہ ہوجائے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں آئے اور لمبے قیام، رکوع اور سجود والی نماز پڑھائی۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں دیکھا کہ آپ نے ایسا کبھی نماز میں کیا ہو۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ اللہ کی نشانیاں ہیں ، یہ کسی کی موت اور زندگی کی وجہ سے ظہور پزیر نہیں ہوتیں۔ لیکن اللہ ان کو اس لیے بھیجتا ہے کہ ان کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو ڈرائے۔ جب تم اس میں سے کوئی چیز دیکھو تو تم اللہ کے ذکر اور اس سے دعا و استغفار میں جلدی کرو۔