(۶۳۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ: مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ قُتَیْبَۃَ وَحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِی شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ نُمَیْرٍ حَدَّثَنَا ہِشَامٌ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی صَلاَتِہِ قَالَتْ: ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَأَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ وَإِنَّہُمَا لاَ یَنْکَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلاَ لِحَیَاتِہِ۔فَإِذَا رَأَیْتُمُوہُمَا فَکَبِّرُوا ، وَادْعُوا اللَّہَ ، وَصَلُّوا ، وَتَصَدَّقُوا۔یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْیَرَ مِنَ اللَّہِ أَنْ یَزْنِیَ عَبْدُہُ أَوْ تَزْنِیَ أَمَتُہُ۔یَا أُمَّۃَ مُحَمَّدٍ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَکَیْتُمْ کَثِیرًا ، وَلَضَحِکْتُمْ قَلِیلاً أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ۔
وَرُوِیَ ہَذَا الْحَدِیثُ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- نَحْوَہُ وَقَالَ فِیہِ: ((فَإِذَا رَأَیْتُمْ ذَلِکَ فَادْعُوا اللَّہَ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا وَأَعْتِقُوا))۔ [صحیح۔ تقدم ۶۳۰۷]
(٦٣٦٤) ہشام اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں سورج گرہن ہوا۔ پھر انھوں نے نماز کے بارے میں لمبی حدیث ذکر کی۔ فرماتی ہیں کہ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پھرے تو سورج روشن ہوچکا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی حمد وثنا بیان کی اور فرمایا : سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں، ان دونوں کو کسی کی زندگی یا موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو۔ اللہ سے دعا کرو، نماز پڑھو اور صدقہ کرو۔ اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے کہ اس کا بندہ یابندی زنا کرے، اے امت محمد ! اگر تم جان لو جو میں جانتا ہوں تو تم رونا زیادہ کردو اور ہنسنا کم کردو۔ کیا میں نے بات پہنچا دی ؟۔
(ب) ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح بیان کرتی ہیں، اس حدیث میں ہے کہ جب تم اس کو دیکھو تو اللہ سے دعا کرو ‘ نماز پڑھو ‘ صدقہ کرو اور گردنیں آزاد کرو۔