(۶۳۷۶) أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِی طَاہِرٍ الْعَنْبَرِیُّ أَخْبَرَنَا جَدِّی یَحْیَی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ قَالَ حَدَّثَنِی مَنْصُورُ بْنُ صَفِیَّۃَ عَنْ أُمِّہِ صَفِیَّۃَ بِنْتِ شَیْبَۃَ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِی بَکْرٍ أَنَّہَا قَالَتْ: فَزِعَ النَّبِیُّ -ﷺ- یَوْمَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّی أُدْرِکَ بِرِدَائِہِ فَقَامَ بِالنَّاسِ قِیَامًا طَوِیلاً یَقُومُ ثُمَّ یَرْکَعُ ، فَلَوْ جَائَ إِنْسَانٌ بَعْدَ مَا رَکَعَ لَمْ یَکُنْ رَکَعَ شَیْئًا مَا حَدَّثَ نَفْسَہُ أَنَّہُ رَکَعَ مِنْ طُولِ الْقِیَامِ قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی ہِی أَکْبَرُ مِنِّی وَإِلَی الْمَرْأَۃِ الَّتِی ہِیَ أَسْقَمُ مِنِّی قَائِمَۃً فَأَقُولُ: أَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَی طُولِ الْقِیَامِ مِنْکِ۔ أَخْرَجَہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ وَغَیْرِہِ۔ [صحیح۔ مسلم ۹۰۶]
(٦٣٧٦) صفیہ بنت شیبہ ‘ اسماء بنت أبی بکر (رض) سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورج گرہن کے وقت گھبرا گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زرہ کو پکڑا۔ یہاں تک کہ وہ آپ کی چادر کے ساتھ پائی گئی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کے ساتھ لمبا قیام کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے رہے پھر رکوع کیا۔ اگر کوئی انسان آپ کے رکوع کرنے کے بعد آتا تو وہ رکوع نہ کرتا۔ اس لیے کہ اس کے دل میں یہ بات پیدا نہ ہوتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رکوع کیا ہے، لمبے قیام کی وجہ سے۔ فرماتی ہیں کہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو عمر کے اعتبار سے مجھ سے بڑی تھی اور دوسری عورت جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی، وہ کھڑی تھیں۔ میں نے کہا : میرا تجھ سے زیادہ حق بنتا ہے کہ میں زیادہ لمبا قیام کروں۔