(۶۳۷۷) أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ: مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَۃَ: الْحُسَیْنُ بْنُ أَبِی مَعْشَرٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ صَفِیَّۃَ بِنْتِ أَبِی عُبَیْدٍ قَالَتْ: زُلْزِلَتِ الأَرْضُ عَلَی عَہْدِ عُمَرَ حَتَّی اصْطَفَقَتِ السُّرُرُ وَابْنُ عُمَرَ یُصَلِّی فَلَمْ یَدْرِ بِہَا ، وَلَمْ یُوَافِقْ أَحَدًا یُصَلِّی فَدَرَی بِہَا فَخَطَبَ عُمَرُ النَّاسَ فَقَالَ: أَحْدَثْتُمْ لَقَدْ عَجِلْتُمْ قَالَتْ: وَلاَ أَعْلَمُہُ إِلاَّ قَالَ لَئِنْ عَادَتْ لأَخْرُجَنَّ مِنْ بَیْنِ ظَہْرَانَیْکُمْ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۸۳۳۵]
(٦٣٧٧) نافع صفیہ بنت ابی عبید سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے دور میں زمین پر زلزلہ آیا، یہاں تک کہ چار پائیوں نے بھی حرکت کی اور ابن عمر (رض) نماز پڑھ رہے تھے۔ انھیں معلوم نہ ہوا۔ کوئی دوسرا اس وقت نماز نہیں پڑھ رہاتھا تو ان کو بھی معلوم ہوگیا، پھر عمر بن خطاب (رض) نے لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا کہ تم نے نیا کام کیا۔ تم نے جلدی کی۔ صفیہ فرماتی ہیں کہ انھوں نے فرمایا :“ اگر وہ جاری رہتی تو میں ضرورتمہارے درمیان سے نکل جاتا۔