hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 6402

.

سنن البيهقي

6402
Sunan Al Bayhaqi
(۶۴۰۲) حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : کَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِی أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلٍ : بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَیْنِ الْبَیْہَقِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ عَنْ (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کِنَانَۃَ قَالَ أَخْبَرَنِی أَبِی وَسَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ قَالَ : أَرْسَلَنِی الْوَلِیدُ بْنُ عُقْبَۃَ وَہُوَ یَوْمَئِذٍ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْأَلُہُ عَنْ صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ فَأَتَیْتُہُ فَقُلْتُ : إِنَّا تَمَارَیْنَا فِی الْمَسْجِدِ فِی صَلاَۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی الاِسْتِسْقَائِ ۔ فَقَالَ : لاَ وَلَکِنْ أَرْسَلَکَ ابْنُ أُخْتِکُمْ وَلَوْ أَنَّہُ أَرْسَلَ فَسَأَلَ مَا کَانَ بِذَاکَ بَأْسٌ ، ثُمَّ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا حَتَّی جَلَسَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَلَمْ یَخْطُبْ کَخُطْبَتِکُمْ ہَذِہِ ، وَلَکِنْ لَمْ یَزَلْ فِی الدُّعَائِ ، وَالتَّضَرُّعِ ، وَالتَّکْبِیرِ وَصَلَّی رَکْعَتَیْنِ کَمَا کَانَ یُصَلِّی فِی الْعِیدِ۔ لَفْظُ حَدِیثِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مُوسَی وَحَدِیثُ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی بِمَعْنَاہُ إِلاَّ أَنَّہُ قَالَ الْوَلِیدُ بْنُ عُتْبَۃَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِیُّ الصَّوَابُ ابْنُ عُتْبَۃَ قَالَ الشَّیْخُ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَہَذَا الْحَدِیثُ یُوہِمُ أَنَّ دُعَائَ ہُ کَانَ قَبْلَ الصَّلاَۃِ۔ وَقَدْ رَوَاہُ سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ۔ [حسن۔ ابن خزیمہ]
(٦٤٠٢) ہمیں حدیث بیان کی ہشام بن اسحاق بن عبداللہ بن کنانہ نے، وہ کہتے ہیں : مجھے خبر دی میرے باپ نے ، وہ کہتے ہیں : میں نے سنا اس سے جو وہ حدیث بیان کرتے ہیں اور انھوں نے کہا کہ مجھے ولید بن عقبہ نے بھیجا (جو ان دنوں مدینہ کے امیر تھے) ابن عباس کی طرف تاکہ میں ان سے پوچھوں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صلوٰۃ الاستسقاء کا طریقہ سو میں ان کے پاس آیا تو میں نے کہا : ہم مسجد میں جھگڑ پڑے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز استسقاء کے بارے میں تو انھوں نے کہا : نہیں بلکہ تمہیں بھیجا ہے تمہارے بھانجے نے اگر اس نے بھیجا ہے تو اس نے ایسی بات کا سوال کیا ہے جس میں کوئی جھگڑا نہیں۔ پھر ابن عباس (رض) نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے کپڑے لٹکا کر عاجزی انکساری کرتے ہوئے اور آہ وزاری کرتے ہوئے یہاں تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے اور تمہاری خطبے کی طرح خطبہ نہ دیا لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دعا کرتے رہے اور گڑگڑاتے رہے اور اللہ کی کبریائی بیان کرتے رہے اور دو رکعتیں پڑھائیں جیسے عید میں پڑھاتے تھے۔
یہ لفظ ابراہیم بن موسیٰ کی حدیث کے ہیں اور جو یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث وہ بھی انھیں معانی کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ ان کی دعا نماز سے پہلے تھی اور یہ بات سفیان ثوری نے کہی۔
شیخ (رح) نے کہا ہے : یہ حدیث وہم پیدا کرتی ہے کہ آپ کی دعا نماز سے پہلے تھی اور اسے بیان کیا سفیان ثوری نے بھی۔