(۶۴۲۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِیفَۃَ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ أَبُو الْفَضْلِ الرِّیَاشِیُّ حَدَّثَنَا الأَصْمَعِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ أَبِی وَجْزَۃَ السَّعْدِیِّ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : خَرَجَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْتَسْقِی فَجَعَلَ لاَ یَزِیدُ عَلَی الاِسْتِغْفَارِ فَقُلْتُ : أَلاَ یَتَکَلَّمُ لِمَا خَرَجَ لَہُ وَلاَ أَعْلَمُ أَنَّ الاِسْتِسْقَائَ ہُوَ الاِسْتِغْفَارُ فَمُطِرْنَا۔ [حسن لغیرہٖ۔ ابی حاتم]
(٦٤٢٢) جزہ سعدی اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا : عمر (رض) بارش کی دعا کرنے کیلئے نکلے اور انھوں نے استغفار سے کچھ زیادہ نہ کیا تو میں نے کہا کہ وہ کیوں نہیں کہتے کہ ہم کس مقصد کے لیے نکلے میں نہیں جانتا کہ استسقاء سے مراد استغفار ہے۔ مگر ہمیں بارش دے دی گئی۔