(۶۴۲۴) أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِیُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَۃَ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ وَہُشَیْمٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یَسْتَسْقِی فَلَمْ یَزِدْ عَلَی الاِسْتِغْفَارِ حَتَّی رَجَعَ فَقِیلَ لَہُ : مَا رَأَیْنَاکَ اسْتَسْقَیْتَ فَقَالَ : لَقَدْ طَلَبْتُ الْمَطَرَ بِمَجَادِیحِ السَّمَائِ الَّذِی یُسْتَنْزَلُ بِہِ الْمَطَرُ ، ثُمَّ قَرَأَ {اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا) ( وَیَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا} [ھود: ۵۲] [حسن لغیرہٖ۔ ابن ابی شیبۃ]
(٦٤٢٤) شعبی بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) بارش مانگنے کیلئے نکلے اور انھوں نے صرف استغفار ہی کیا اس کے علاوہ کچھ بھی نہ کیا اور پلٹ آئے تو ان سے کہا گیا کہ ہم نے تو نہیں دیکھا کہ آپ نے بارش مانگی ہو تو عمر (رض) نے کہا کہ میں نے بارش مانگی ہے آسمان کے پرنالوں میں سے جہاں سے بارش اترتی ہے۔ پھر انھوں نے یہ آیت تلاوت کی { اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا } { وَیَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَائَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا } [ھود : ٥٢] ۔