(۶۴۲۹) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنِی أَبُو الطَّاہِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی مُعَاوِیَۃُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ یَزِیدَ عَنْ أَبِی إِدْرِیسَ الْخَوْلاَنِیِّ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- أَنَّہُ قَالَ : ((لاَ یَزَالُ یُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ یَدْعُ بِإِثْمٍ ، أَوْ قَطِیعَۃِ رَحِمٍ مَا لَمْ یَسْتَعْجِلْ))۔ قِیلَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا الاِسْتِعْجَالُ؟ قَالَ ((یَقُولُ : قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ یُسْتَجَبْ لِی فَیَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِکَ وَیَدَعُ الدُّعَائَ))
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ أَبِی عُبَیْدٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ مُخْتَصَرًا۔
[صحیح۔ البخاری]
(٦٤٢٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” انسان کی دعا ہمیشہ قبول کی جاتی رہتی ہے جب تک وہ کوئی گناہ کی دعا نہیں کرتا یا پھر قطع رحمی کرنے والا ، جب تک جلدی کا مطالبہ نہیں کرتا ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا ؛اے اللہ کے رسول !” استعجال “ کیا ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ کہتا ہے ” میں نے بہت دعا کی میں نے بہت دعا کی مگر میری دعا قبول نہیں کی گئی تب وہ تھک جاتا ہے اور دعا کو چھوڑ دیتا ہے