(۶۴۳۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ قَتَادَۃَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمَّادٍ الطِّہْرَانِیُّ بِالرَّیِّ أَخْبَرَنَا أَبِی أَخْبَرَنَا السِّنْدِیُّ یَعْنِی ابْنَ عَبْدُوَیْہِ الدَّہَکِیَّ عَنْ عَبْدِاللَّہِ بْنِ عَبْدِاللَّہِ الْمَدَنِیِّ ہُوَ أَبُو أُوَیْسٍ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی لُبَابَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الأَنْصَارِیِّ قَالَ : اسْتَسْقَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَالَ : ((اللَّہُمَّ اسْقِنَا اللَّہُمَّ اسْقِنَا))۔ فَقَامَ أَبُو لُبَابَۃَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ التَّمَرَ فِی الْمَرَابِدِ قَالَ وَمَا فِی السَّمَائِ سَحَابٌ نَرَاہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((اللَّہُمَّ اسْقِنَا حَتَّی یَقُومَ أَبُو لُبَابَۃَ عُرْیَانًا یَسُدُّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِہِ بِإِزَارِہِ))۔ قَالَ فَاسْتَہَلَّتِ السَّمَائُ فَأَمْطَرَتْ وَصَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ ثُمَّ طَافَتِ الأَنْصَارُ بِأَبِی لُبَابَۃَ یَقُولُون لَہُ : یَا أَبَا لُبَابَۃَ إِنَّ السَّمَائَ وَاللَّہِ لَنْ تُقْلِعَ أَبَدًا حَتَّی تَقُومَ عُرْیَانًا فَتَسُدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِکَ بِإِزَارِکَ کَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فَقَامَ أَبُو لُبَابَۃَ عُرْیَانًا فَسَدَّ ثَعْلَبَ مِرْبَدِہِ بِإِزَارِہِ قَالَ فَأَقْلَعَتِ السَّمَائُ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الطبرانی]
(٦٤٣٥) ابو لبابہ بن عبد المنذر انصاری بیان کرتے ہیں کہ جمعے کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بارش کی دعا کی اور کہا : ” اے اللہ ! ہمیں بارش دے ، اے اللہ ! ہمیں بارش دے “ تو ابو لبابہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کھجوریں باڑے میں پڑی ہیں اور ہم آسمان میں کوئی بادل بھی نہیں دیکھ رہے تو رسول اللہ نے فرمایا : اے اللہ ! ہمیں بارش دے اس قدر کہ ابو لبابہ ننگا کھڑا ہو اور اپنے باڑے کے سوراخ کو اپنے تہہ بند کے ساتھ بند کرے۔ راوی کہتے ہیں کہ آسمان ابر آلود ہوگیا اور بارش برسی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں نماز پڑھائی۔ راوی کہتے ہیں کہ انصاری ابو لبابہ کے پاس گئے اور کہنے لگے : اے ابو لبابہ ! اللہ کی قسم ! اتنی دیر آسمان صاف نہیں ہوگا یہاں تک کہ تو ننگا کھڑا ہو کر اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند نہیں کرے گا جس طرح آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے تو پھر ابو لبابہ ننگا کھڑا ہوا اور اپنی چادر سے باڑے کے سوراخ کو بند کیا تو آسمان صاف ہوگیا۔