(۶۴۶۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْلَمَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ ہَانِئٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِیُّ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِی رَبَاحٍ أَنَّہُ سَمِعَ عَائِشَۃَ زَوْجَ النَّبِیِّ -ﷺ- تَقُولُ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا کَانَ یَوْمُ الرِّیحِ وَالْغَیْمِ عُرِفَ ذَلِکَ فِی وَجْہِہِ فَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ وَإِذَا مُطِرَ سُرَّ بِہِ وَذَہَبَ عَنْہُ ذَلِکَ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَسَأَلْتُہُ فَقَالَ : ((إِنِّی خَشِیتُ أَنْ یَکُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَی أُمَّتِی))۔ وَیَقُولُ إِذَا رَأَی الْمَطَرَ : ((رَحْمَۃٌ))۔ وَفِی رِوَایَۃِ مُعَاذٍ سُرِّیَ وَذَہَبَ عَنْہُ ذَلِکَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنِ الْقَعْنَبِیِّ۔ [صحیح۔ أخرجہ مسلم]
(٦٤٦٥) عطاء بن رباح بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ سیدہ عائشہ (رض) سے سنا ، وہ کہتی تھیں : جو دن آندھی یا بارش والا ہوتا (بادل) اس کی گھبراہٹ، پریشانی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے سے عیاں ہوتی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسی وجہ سے کبھی آتے اور کبھی جاتے۔ جب بارش برستی تو آپ خوش ہوجاتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پریشانی کی کیفیت ختم ہوجاتی ۔ عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ عذاب ہی نہ ہو جو میری امت پر مسلط کیا گیا ہو۔ جب بارش کو دیکھتے تو آپ کہتے : رحمت ہے رحمت۔ عاذ کی ایک روایت میں یہ لفظ ہیں ” سُنِریَ وَذَھَبَ عَنَہُ ذالِکَ “