(۶۴۶۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ وَابْنُ بُکَیْرٍ عَنِ اللَّیْثِ عَنْ یُونُسَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَیْسٍ أَحَدُ بَنِی زُرَیْقٍ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ۔ وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِیدِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ أَخْبَرَنَا الأَوْزَاعِیُّ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِہَابٍ الزُّہْرِیُّ حَدَّثَنِی ثَابِتٌ الزُّرَقِیُّ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ قَالَ : أَخَذَتِ النَّاسَ رِیحٌ بِطَرِیقِ مَکَّۃَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَاجٌّ فَاشْتَدَّتْ عَلَیْہِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لِمَنْ حَوْلَہُ : مَا الرِّیحُ؟ فَلَمْ یَرْجِعُوا إِلَیْہِ شَیْئًا فَبَلَغَنِی الَّذِی سَأَلَ عَنْہُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ مِنْ ذَلِکَ فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِی إِلَیْہِ حَتَّی أَدْرَکْتُہُ فَقُلْتُ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أُخْبِرْتُ أَنَّکَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّیحِ وَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : ((الرِّیحُ مِنْ رَوْحِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ تَأْتِی بِالرَّحْمَۃِ وَتَأْتِی بِالْعَذَابِ فَلاَ تَسُبُّوہَا، وَاسْأَلُوا اللَّہَ عَزَّوَجَلَّ خَیْرَہَا وَاسْتَعِیذُوا بِاللَّہِ مِنْ شَرِّہَا))۔[صحیح۔ احمد ابن حبان]
(٦٤٦٤) ابو ہریرہ (رض) کہتے ہیں : ایک مرتبہ لوگوں کو آندھی نے آلیا اور وہ مکہ کے راستے میں تھے اور عمر (رض) حج کے لیے جا رہے تھے اور آندھی بہت سخت ہوگئی تو عمر (رض) نے اپنے ارد گرد کے لوگوں سے پوچھا : کیسی ہوا ہے ؟ تو انھوں نے کوئی جواب نہ دیا اور مجھے یہ خبر پہنچی کہ عمر نے یہ سوال کیا ہے تو میں اپنی سواری ان کے قریب لایا اور میں نے ان کو پالیا تو میں نے کہا : اے امیرالمؤمنین ! مجھے خبر ملی ہے کہ آپ نے ریح کے بارے میں دریافت کیا ہے اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ ” ریح اللہ تعالیٰ کی ہوا ہے جو رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی لاتی ہے، سو تم اسے برا بھلا نہ کہو ۔ اللہ تعالیٰ سے اس کی بھلائی مانگو اور اس کے شر سے پناہ طلب کرو۔