(۶۴۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِیہُ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ النَّقَّاشُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی الْقَاضِی السَّرَخْسِیُّ فَذَکَرَہُ بِإِسْنَادِہِ وَبَعْضِ مَعْنَاہُ۔
وَقَالَ فِی آخِرِہِ فِی حَدِیثِ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمَّارٍ فَقَالَ أَحْمَدُ : عَمَّارُ وَابْنُ عُمَرَ اسْتَوَیَا ، فَمَنْ شَائَ أَخَذَ بِہَذَا ، وَمَنْ شَائَ أَخَذَ بِہَذَا۔
قَالَ الشَّیْخُ : قَدْ رُوِّینَا عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی حَدِیثِ بُسْرَۃَ وَسَمَاعُ عُرْوَۃَ مِنْہَا کَمَا قَالَ یَحْیَی بْنُ مَعِینٍ۔ وَکَأَنَّہُ رَجَعَ فِی ذَلِکَ إِلَی قَوْلِ یَحْیَی وَتَقْلِیدِ حَدِیثِ بُسْرَۃَ۔ [ضعیف۔ أخرجہ الحاکم ۱/۲۳۴]
(٦٤٩) عبداللہ بن یحییٰ قاضی سرخسی نے اسی سند سے اس حدیث کے ہم معنی روایت نقل کی ہے۔ (ب) امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے لیے سید ناعمار (رض) اور ابن عمر (رض) دونوں صحابی رسول ہیں، جو چاہے عمار (رض) کی روایت کو قبول کرلے اور جو چاہے ابن عمر (رض) کی روایت پر عمل کرلے۔
(ج) شیخ کہتے ہیں : ہمارے اصحاب علی بن مدینی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حدیث بسرہ (رض) اور عروہ کے سماع کے متعلق کچھ کہا۔ جیسے یحییٰ بن معین نے کہا ہے گویا وہ یحییٰ بن معین اور حدیث بسرہ (رض) پر عمل پیرا ہیں۔