(۶۵۰) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِیمِ قَالَ عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ : اجْتَمَعَ سُفْیَانُ وَابْنُ جُرَیْجٍ فَتَذَاکَرَا مَسَّ الذَّکَرِ ، فَقَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : یُتَوَضَّأُ مِنْہُ۔
وَقَالَ سُفْیَانُ : لاَ یُتَوَضَّأُ مِنْہُ۔ فَقَالَ سُفْیَانُ : أَرَأَیْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَمْسَکَ بِیَدِہِ مَنِیًّا مَا کَانَ عَلَیْہِ؟ فَقَالَ ابْنُ جُرَیْجٍ : یَغْسِلُ یَدَہُ۔ قَالَ : فَأَیُّہُمَا أَکْبَرُ الْمَنِیُّ أَوْ مَسُّ الذَّکَرِ؟ فَقَالَ : مَا أَلْقَاہَا عَلَی لِسَانِکَ إِلاَّ الشَّیْطَانُ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَإِنَّمَا أَرَادَ ابْنُ جُرَیْجٍ أَنَّ السُّنَّۃَ لاَ تُعَارَضُ بِالْقِیَاسِ۔
وَذَکَرَ الشَّافِعِیُّ فِی رِوَایَۃِ الزَّعْفَرَانِیِّ عَنْہُ أَنَّ الَّذِی قَالَ مِنَ الصَّحَابَۃِ لاَ وُضُوئَ فِیہِ فَإِنَّمَا قَالَہُ بِالرَّأْیِ وَمَنْ أَوْجَبَ الْوُضُوئَ فِیہِ فَلاَ یُوجِبُہُ إِلاَّ بِالاِتِّبَاعِ۔ وَأَمَّا الْحَدِیثُ الَّذِی۔ [صحیح۔ أخرجہ عبد الرزاق ۴۳۹]
(٦٥٠) (الف) سفیان اور ابن جریج اکٹھے ہوئے تو انھوں نے مس ذکر پر بحث و مباحثہ کیا۔ ابن جریج کہتے ہیں : اس سے وضو کیا جائے گا اور سفیان کہتے ہیں : وضو نہیں کیا جائے گا۔ سفیان کہتے ہیں : مجھے بتاؤ اگر کوئی آدمی اپنے ہاتھ سے منی پکڑ لیتا ہے تو اس پر کیا ہے ؟
ابن جریج کہتے ہیں کہ اپنا ہاتھ دھوئے گا تو انھوں نے پوچھا : کیا منی زیادہ بڑی ہے یا شرمگاہ کو چھونا بڑا ہے ؟ تو ابن جریج نے کہا : یہ بات شیطان نے تمہارے دل میں ڈالی ہے۔
(ب) شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج کی مراد یہ ہے کہ سنت کا تقابل قیاس سے نہیں کیا جائے گا۔
(ج) امام شافعی (رح) نے زعفرانی والی روایت میں ذکر کیا ہے کہ میں نے صحابہ سے یہ نقل کیا ہے کہ اس میں وضو نہیں ہے یہ اس کی اپنی رائے ہے اور جس نے وضو واجب قرار دیا تو ان کی اتباع کرتے ہوئے واجب قرار دیا ہے۔