(۶۵۴) وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا عَلِیٌّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ ہِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ قَالَ کَانَ أَبِی یَقُولُ: إِذَا مَسَّ رُفْغَہُ أَوْ أُنْثَیْیَہِ أَوْ فَرْجَہُ فَلاَ یُصَلِّی حَتَّی یَتَوَضَّأَ۔
وَرُوِیَ ذَلِکَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ مُدْرَجًا فِی الْحَدِیثِ وَہُوَ وَہَمٌ وَالصَّوَابُ أَنَّہُ مِنْ قَوْلِ عُرْوَۃَ۔
وَالْقِیَاسُ أَنَّ لاَ وُضُوئَ فِی الْمَسِّ وَإِنَّمَا اتَّبَعْنَا السُّنَّۃَ فِی إِیجَابِہِ بِمَسِّ الْفَرْجِ فَلاَ یَجِبُ بِغَیْرِہِ۔
[صحیح۔ أخرجہ الدار قطنی ۱/۱۴۸]
(٦٥٤) ہشام بن عروہ کے والد فرماتے تھے : جب کوئی شخص اپنی میل والی جگہ کو چھوئے یا خصیتیں یا اپنی شرمگاہ کو چھوئے تو وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ وضو کرے۔
(ب) ایک اور سند کے ساتھ ہشام بن عروہ سے مدرج حدیث منقول ہے، یہ کسی راوی کا وہم ہے اور درست بات یہی ہے کہ وہ عروہ کا قول ہے۔
(ج) قیاس یہ ہے کہ مس جب کپڑے کے اوپر سے ہو تو اس سے وضو نہیں ہے اور ہم نے سنت کی اتباع کی ہے کہ شرمگاہ کو چھوئے بغیر وضو واجب نہیں۔