(۶۵۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلاَئً أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ : عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَیْصِنٍ السَّہْمِیُّ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ قَیْسِ بْنِ مَخْرَمَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ (مَنْ یَعْمَلْ سَوْئً یُجْزَ بِہِ) شَقَّ ذَلِکَ عَلَی الْمُسْلِمِینَ فَذَکَرُوْہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا ، وَأَبْشِرُوا فَإِنْ کُلَّ مَا أَصَابَ الْمُسْلِمَ کَفَّارَۃٌ لَہُ حَتَّی الشَّوْکَۃُ یُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃُ یُنْکَبُہَا))۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَغَیْرِہِ عَنْ سُفْیَانَ۔ [صحیح۔ مسلم]
(٦٥٣٥) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : ” مَنْ یَعْمَلْ سُوْئً یُجْزَبہ “ ١٢٣ نساء “ تو مسلمانوں پر بہت گراں گزری۔ انھوں نے اس کا تذکرہ پیارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” مل جل کے رہو اور سیدھے رہو اور خوشخبری پھیلاؤ “ یقیناً مسلمان کو جو بھی تکلیف پہنچتی ہے وہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ کانٹا بھی جو اسے تکلیف پہنچاتا ہے اور وہ مصیبت جو اس پر آتی ہے (گناہوں کے کفارے کا باعث ہے) ۔