(۶۵۳۴) حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ فُورَکَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ حَبِیبٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ وَہِشَامٌ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ کُلُّہُمْ عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَہْدَلَۃَ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِیُّ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی الأَشْیَبُ حَدَّثَنَا شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- مَنْ أَشَدُّ النَّاسِ بَلاَئً؟ قَالَ: ((النَّبِیُّونَ ثُمَّ الأَمْثَلُ فَالأَمْثَلُ یُبْتَلَی الرَّجُلُ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ، فَإِنْ کَانَ صُلْبَ الدِّینِ اشْتَدَّ بَلاَؤُہُ، وَإِنْ کَانَ فِی دِینِہِ رِقَّۃٌ ابْتُلِیَ عَلَی حَسَبِ دِینِہِ فَمَا تَبْرَحُ الْبَلاَیَا عَلَی الْعَبْدِ حَتَّی تَدَعَہُ یَمْشِی عَلَی الأَرْضِ لَیْسَ عَلَیْہِ خَطِیئَۃٌ))۔[صحیح لغیرہٖ۔ ترمذی]
(٦٥٣٤) سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے زیادہ آزمائش کن لوگوں کی ہوتی ہے ؟ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انبیاء کی۔ پھر درجہ بدرجہ ہر آدمی اپنے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے۔ اگر وہ دین میں زیادہ پختہ ہے تو اس کی آزمائش بھی زیادہ ہوتی ہے۔ اگر اس کے دین میں نرمی ہے تو وہ اپنے دین کے مطابق ہی آزمایا جاتا ہے۔ سو نہیں آتی کسی بندے پر آزمائش حتیٰ کہ اسے ایسی حالت میں چھوڑتی ہے کہ وہ زمین پر چلتا ہے مگر اس کی کوئی غلطی (گناہ) نہیں ہوتی۔