(۶۵۴۶) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِی النَّجُودِ عَنْ خَیْثَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : ((إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا کَانَ عَلَی طَرِیقَۃٍ حَسَنَۃٍ مِنَ الْعِبَادَۃِ ، ثُمَّ مَرِضَ قِیلَ لِلْمَلَکِ الْمُوَکَّلِ اکْتُبْ لَہُ مِثْلَ عَمَلِہِ إِذَا کَانَ طَلِقًا حَتَّی أُطْلِقَہُ أَوْ أُکْفِتَہُ إِلَیَّ))۔ [صحیح لغیرہٖ۔ أخرجہ احمد]
(٦٥٤٦) عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک بندہ جب عبادت کرتے ہوئے اچھے طریقے کا انتخاب کرتا ہے، پھر وہ بیمار ہو تو ” ملک موکل “ فرشتے کو کہا جاتا ہے : تو اس کے لیے ان اعمال کا اجرلکھ جو وہ تندرستی کی حالت میں کرتا تھا یہاں تک کہ میں اسے تندرست کر دوں یا اپنی طرف بلا لوں۔