(۶۵۶۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاہِلِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَہْدِیٍّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِی الْفُرَاتِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بُرَیْدَۃَ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَعْمَرَ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا : أَنَّہَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَنِ الطَّاعُونِ فَقَالَتْ حَدَّثَنِی نَبِیُّ اللَّہِ -ﷺ- : ((أَنَّہُ عَذَابٌ یَبْعَثُہُ اللَّہُ عَلَی مَنْ یَشَائُ فَجَعَلَہُ رَحْمَۃً لِلْمُؤْمِنِینَ فَلَیْسَ عَبْدٌ یَقَعُ الطَّاعُونُ فَیُقِیمُ بِبَلَدِہِ إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا یَعْلَمُ أَنَّہُ لَنْ یُصِیبَہُ إِلاَّ مَا کَتَبَ اللَّہُ لَہُ إِلاَّ کَانَ لَہُ مِثْلُ أَجْرِ شَہِیدٍ))۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ مِنْ حَدِیثِ دَاوُدَ بْنِ أَبِی الْفُرَاتِ۔ [صحیح۔ بخاری]
(٦٥٦٠) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک یہ عذاب ہے اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اسے نازل کرتا ہے مگر اہل ایمان کیلئے اسے رحمت بناتا ہے۔ نہیں ہے کوئی بندہ جو اسی زمین میں ٹھہرا رہا جہاں طاعون واقع ہوا وہ صرف ایمان اور طلب ثواب کی نیت سے رکا رہا اور وہ جانتا ہے ہرگز اسے نہیں پہنچے گا مگر وہی جو اللہ تعالیٰ نے اس کیلئے لکھ دیا تو اس کیلئے شہید کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔